‫‫کیٹیگری‬ :
02 September 2017 - 13:23
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 429771
فونت
حجت الاسلام آغا سید حسن موسوی:
سرینگر سے جاری اپنے عید پیغام میں انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ مفلوک الحال افراد کی خبرگیری ہر مسلمان کا دینی اور انسانی فریضہ ہے، تاہم عید کے موقعہ پر اس فریضے کی ادائیگی کے اجر و ثواب میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔
حجت الاسلام سید حسن موسوی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغا سید حسن موسوی نے کہا کہ میں عید الضحیٰ کے متبرک موقعہ پر فرزندان توحید بالخصوص ملت اسلامیہ جموں و کشمیر کی خدمت میں پُرخلوص ہدیہ تبریک و تہنیت پیش کرتا ہوں۔ سرینگر سے جاری اپنے عید پیغام میں انہوں نے کہا کہ میں دنیائے اسلام کی امن و سلامتی کے لئے بارگاہ خداوندی میں دعاگو ہوں۔ عید قربان حضرت ابراہیم (ع) کے جذبۂ عشق و ایثار اور حضرت اسماعیل (ع) کے جذبۂ صبر و رضا کی یاد تازہ کرتے ہوئے مسلمین عالم کی توجہ اس واضح حقیقت کی طرف مبذول کراتی ہے کہ اعلیٰ و ارفع مقاصد کے لئے پُرخلوص قربانیوں کی آمادگی شرطِ اول ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حضرت خلیل (ع) کے جذبۂ قربانی کے حد درجہ خلوص اور عشق کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (ع) کی قربانی کے ہر عمل کو مسلمانوں کے لئے حج اکبر قرار دے کر اس قربانی کی یاد کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ رکھا۔ آغا سید حسن نے کہا کہ کشمیری قوم بھی ایک اعلیٰ مقصد کے لئے سات دہائیوں سے قربانیوں کی ایک تاریخ رقم کر رہے ہیں اور یہ قربانیاں ہرگز رائیگان نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ شرط یہ ہے کہ قوم ان قربانیوں کی قدر و قیمت کا احساس کرتے ہوئے ہر سطح پر وفا شعاری کا مظاہرہ کریں۔

آغا سید حسن نے کہا کہ عید کے اس متبرک موقعہ پر یہ تجدید عہد کریں کہ ہم اپنے لاکھوں شہداء کی قربانیوں کی حفاظت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ہمہ وقت آمادگی کا مظاہرہ کرتے رہیں گے، اگرچہ مفلوک الحال افراد کی خبرگیری ہر مسلمان کا دینی اور انسانی فریضہ ہے، تاہم عید کے موقعہ پر اس فریضے کی ادائیگی کے اجر و ثواب میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام اور ملت اسلامیہ کی عزت و سربلندی کے لئے ہر وقت قربانیوں کی آمادگی کی سعادت سے سرفراز فرمائے۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬