08 September 2017 - 18:27
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 429852
فونت
پاکستان شریعہ بورڈ :
برما میں ہونے والے مظالم مسلمانوں کے قتل عام پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی عذاب الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔
محمد ضیاءالحق نقشبندی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق تنظیم اتحادا مت پاکستان کے چیئرمین محمد ضیاءالحق نقشبندی کی اپیل پر تنظیم کے شریعہ بورڈ کے 50 سے زائد مفتیان کرام نے روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں شرعی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن و سنت کے احکامات کے مطابق روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش رہنا سخت گناہ ہے۔

 برما میں ہونے والے مظالم مسلمانوں کے قتل عام پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی عذاب الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے، امت مسلمہ ایک جسم کی مانند ہے، دنیا کا ہر مسلمان روہنگیائی مسلمانوں پر مظالم کے خلاف سراپا احتجاج بن جائیں۔

برما لہو لہو ہے، بیدردی سے قتل ہونی والی مائیں، تڑپتے بچے، بے حسی کی چادر اوڑھے سویا عالمی ضمیر اب تو جاگ جائ، حسینہ واجد، ٹرمپ اور آنگ سانگ سوچی نہ بنیں، ان کیلئے اپنے ملک کی سرحد کھول دیں، مظلوموں کیلئے خیمہ بستیاں بنانا بنگلہ دیش کی حکومت پر قرآن وسنت کی روشنی میں فرض ہے۔

فتوے میں کہا گیا ہے کہ روہنگیا کے بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کو رکوانے کے لئے پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک اپنے سفارتخانے بند کر دیں، برما کی قاتل حکمران اور امن کی نام نہاد علمبردار آنگ سانگ سوچی سے فوری طور پر نوبل ایوارڈ واپس لیا جائے۔

اقوام متحدہ بے حسی ختم ہونے تک برما کی رکنیت معطل کرے، پاکستان اقوام متحدہ میں برما میں مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے، عالمی میڈیا یہودیوں کے شکنجے سے باہر نکل کر برما میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور قتل و غارت بارے دنیا کو آگاہ کرے۔

پاکستان کے حکمران طیب اردوگان جیسے بنیں تو عوام آج بھی ٹینکوں کے سامنے لیٹ جانے کو تیار ہیں، طیب اردگان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کا غیرت مندانہ طرزعمل دیگر اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

تنظیم اتحادا مت پاکستان کے شریعہ بورڈ کے 50 سے زائد جن مفتیان کرام نے اجتماعی فتویٰ جاری کیا، ان میںمحقق العصر مفتی محمد خان قادری، علامہ خلیل الرحمن قادری، مفتی پیر سید کرامت علی، مفتی ابوبکر اعوان، مفتی مسعود الرحمن، علامہ مفتی محمد طاہر تبسم قادری، مفتی خلیل احمد یوسفی، مفتی گل احمد عتیقی، مفتی گلزار احمد نعیمی، مفتی انتخاب احمد نوری، مفتی محمد فیصل، مفتی محمد عبدالستار سعیدی، مفتی خضرالاسلام، مفتی محمد صادق فریدی، مفتی انوار علوی، مفتی محمد نعیم صابری۔

مفتی محمد ارشد نعیمی، مفتی محمد اعجاز فریدی، مفتی محمد ہاشم، مفتی محمد فیصل ندیم، مفتی مشتاق نعیمی، مفتی عرفان اللہ سیفی، مفتی حافظ عرفان اللہ، مفتی امتیاز احمد قادری، مفتی محمد اکمل، مفتی محمد رضوان، مفتی ضمیر احمد مرتضائی، مفتی اصغر حسین شاہ، مفتی حافظ محمد کوکب نورانی، مفتی محمد اسماعیل، مفتی نور احمد، مفتی حافظ شید شکور حسین، مفتی حافظ محمد رضوان، مفتی حافظ اسرار الٰہی، مفتی حافظ محمد وسیم، مفتی شہزاد احمد نقشبندی۔

مفتی حافظ بلال فاروق، مفتی محمد امان اللہ شاکر، مفتی حافظ عرفان اللہ، مفتی لیاقت علی صدیقی، مفتی میاں غوث علی قصوری، مفتی محمد عارف نقشبندی، مفتی اللہ بخش محمدی سیفی، ڈاکٹر مفتی محمد عمران انور نظامی، مفتی محمد ندیم قمر، مفتی سیّد شہباز احمد شاہ، مفتی محمد آصف نعمانی، مفتی محمد سہیل، مفتی محمد رضا کونین، مفتی محمد یٰسین محمدی سیفی، مفتی حبیب الرحمن مدنی، مفتی حافظ محمد عثمان نوشاہی، مفتی محمد وقاص سلطانی اور دیگر شامل ہیں۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬