‫‫کیٹیگری‬ :
12 October 2017 - 13:07
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 430343
فونت
انجمن شرعی شیعیان کے اراکین و عاملین کا اجلاس:
اجلاس میں ۲۵ محرم الحرام کو شالیمار سرینگر میں حضرت امام زین العابدین (ع) کے یوم شہادت کے سلسلے میں سالہا سال سے برآمد ہونے والے جلوس ذوالجناح جس کو وادی میں جلوس عاشورا کے بعد دوسرا سب سے بڑا جلوس عزاء ہونے کی حیثیت حاصل ہے کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی اور عزاداروں کو مذکورہ جلوس میں جوق در جوق شرکت کی اپیل کی گئی۔
انجمن شرعی شیعیان پاکستان

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اراکین و عاملین کا ایک خصوصی اجلاس صدر دفتر سرینگر پر تنظیم کے سربراہ اور سیئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تنظیمی امورات زیر بحث لائے گئے اور عشرہ محرم کی تقریبات کے پُرامن اور تسلی بخش انعقاد و اختتام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے گرانقدر خدمات انجام دینے پر تنظیمی اراکین و عاملین، رضاکاروں، مقبوضہ کشمیر کی دینی و سیاسی تنظیموں، فلاحی و سماجی انجمنوں خصوصی طور پر شیعہ سنی کارڈینیشن کمیٹی، مجلس تحفظ اتحاد، حسینی خدمتگار کمیٹی، حسینی ریلیف کمیٹی، حسینی خدمتگار کمیٹی میر بحری وغیرہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا۔ اراکین و عاملین نے محرم تقریبات کے حوالے سے ریاستی انتظامیہ کی سرد مہری اور غیر ذمہ دارنہ طرز عمل پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی اعلانات کو محض ایک تشہیری مہم اور شیعیان کشمیر کے ساتھ بھونڈا مذاق قرار دیا۔ اراکین و عاملین نے محرم تقریبات کے تعلق سے ریاستی انتظامیہ کے رول کو انتہائی مایوس کُن قرار دیتے ہوئے کہا کہ حسب سابقہ اس سال بھی حکومت کے میڈیا اعلانات زمینی سطح پر سراب ثابت ہوئے۔ ایسا لگتا ہے کہ ریاستی انتظامیہ محرم تقریبات کے معاملے میں اپنی منصبی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر دامن جھاڑنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

اجلاس میں 25 محرم الحرام کو شالیمار سرینگر میں حضرت امام زین العابدین (ع) کے یوم شہادت کے سلسلے میں سالہا سال سے برآمد ہونے والے جلوس ذوالجناح جس کو وادی میں جلوس عاشورا کے بعد دوسرا سب سے بڑا جلوس عزاء ہونے کی حیثیت حاصل ہے کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی اور عزاداروں کو مذکورہ جلوس میں جوق در جوق شرکت کی اپیل کی گئی۔ اپنے صدارتی خطبے میں آغا سید حسن نے نواسۂ رسول (ص) حضرت امام حسین (ع) کی شہادت اور معرکہ کربلا کی اہمیت و عظمت بیان کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ کربلا انسانی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس میں بلالحاظ مذہب و ملت دنیا کی ہر حق و انصاف اور انسانیت پسند قوم و مذہب کیلئے عزیمت کا درس موجود ہے۔ کربلا کو کسی ایک قوم و مسلک کے ساتھ مخصوص کرنا اس لامثال معرکہ حق و باطل کے پیغام کے روح کے منافی ہے۔ آغا سید حسن نے کہا کہ اس سال عشرہ محرم کی تقریبات جس شایانِ شان اور پُرامن طور پر انعقاد پذیر ہوئے اس نے وادی میں اخوت اسلامی کی قدیم روایت کو مذید چار چاند لگا دئے ہیں۔ یہ مثبت اور حوصلہ کن صورتحال وادی کے باشعور اور معاملہ فہم عوام، دینی اور سیاسی تنظیموں کے مخلصانہ کردار کی دین ہے۔ جن دیگر تنظیمی ذمہ داروں نے اظہار خیال کیا ان میں انجینئر محبوب علی، نثار حسین عالمگیر، ڈاکٹر عبدالمجید، غلام حسین شگنو، عبدالرحیم گامدو، محمد یاسین شالیمار، سید ابوالحسن دیور وغیرہ شامل ہیں۔/۸۹۸/ ف۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬