25 February 2018 - 14:32
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 435156
فونت
محمد جواد ظریف:
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے خطے میں دہشت گردی کے فروغ میں امریکہ کے کلیدی کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ داعش کو اب شام اور عراق سے دوسری جگہ منتقل کررہا ہے۔
محمد جواد ظریف

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران یونیورسٹی میں ایک سمینار سے خطاب میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے خطے میں دہشت گردی کے فروغ میں امریکہ کے کلیدی کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ داعش کو اب شام اور عراق سے دوسری جگہ منتقل کررہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے عراق کے معدوم صدر صدام، لیبیا کے کرنل قذافی اور میلوسوویچ کی تاریخی غلطیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض دوسرے حکام کا حشر بھی ایسا ہی ہوگا کیونکہ وہ تاریخ سے عبرت حاصل نہیں کررہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ داعش کو زمینی لحاظ سے شکست ہوگئی ہے۔داعش کی اس خلافت کی بساط لپٹ گئی ہے جس کا سبز باغ اسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دکھایا تھا۔ امریکہ کل بھی دہشت گردوں کا حامی تھا اور آج بھی دہشت گردوں کی بھر پور حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر چہ داعش کا حکومتی اور خلافتی لحاظ سےخاتمہ ہوگيا ہے لیکن داعش کی فکر آج بھی موجود ہے اور امریکہ اس فکر کے ذریعہ مزید دہشت گرد گروہ پیدا کرسکتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ تمام دہشت گردوں کی ماں کا نام امریکہ ہے امریکہ نے تمام دہشت گرد تنظیموں کو جنم دیا ۔ طالبان، القاعدہ ، النصرہ اور داعش کی تشکیل میں امریکہ اور اس کے اتحادی عربوں نے اہم کردار ادا کیا۔

ایرانی وزير خآرجہ نے امریکہ کے بدنام زمانہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقلید اور حمایت کرنے پر سعودی عرب کے حکام کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکام کے پاس ذرہ برابر غیرت نہیں ہے کہ امریکہ اسےدھمکی دیکر لوٹ رہا ہے وہ امریکہ کے قدموں میں سرجھکائے ہوئے ہے اور دشمن کو دوست اور دوست کو دشمن سمجھ رہا ہے۔

ایرانی وزير خارجہ نے کہا کہ ایران کو اللہ تعالی کی ذات اورملک کی اندرونی طاقت اور پیشرفت پر فخر ہے جبکہ سعودی عرب اور امارات کو امریکہ کی دوستی اور اس سے ہتھیاروں کی خریداری پر فخر ہے ایران کی سلامتی ایرانی قوم کے ہاتھ میں ہے جبکہ سعودی عرب اور امارات کی سلامتی امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ /۹۸۹/ ف۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬