‫‫کیٹیگری‬ :
09 April 2018 - 12:35
News ID: 435520
فونت
وحدت اسلامی اور پاکستان کا استحکام سیمینار(۱)
مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام سالانہ تنظیمی کنونشن کے آخری روز سیمینار بعنوان ’’وحدت اسلامی اور پاکستان کا استحکام‘‘ منعقد کیا گیا جس میں جمیعت علمائے پاکستان نیازی کے پیر معصوم نقوی، رہنما پاکستان عوامی تحریک خرم نواز گنڈہ پور، چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا، ملی یکجہتی کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، چیئرمین البصیرہ ٹرسٹ ثاقب اکبر، سید ناصر شیرازی، ڈاکٹر امجد چشتی سمیت مختلف مکاتب فکر کے علماء و دانشوروں نے شرکت کی اور خطاب کیا۔
سیمینار وحدت اسلامی اور پاکستان کا استحکام

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام سالانہ تنظیمی کنونشن کے آخری روز سیمینار بعنوان ’’وحدت اسلامی اور پاکستان کا استحکام‘‘ منعقد کیا گیا جس میں جمیعت علمائے پاکستان نیازی کے پیر معصوم نقوی، رہنما پاکستان عوامی تحریک خرم نواز گنڈہ پور، چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا، ملی یکجہتی کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، چیئرمین البصیرہ ٹرسٹ ثاقب اکبر، سید ناصر شیرازی، ڈاکٹر امجد چشتی سمیت مختلف مکاتب فکر کے علماء و دانشوروں نے شرکت کی اور خطاب کیا۔

پاکستان کی سالمیت و بقاء تکفیریت کے خاتمے سے مشروط ہے

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ علمی اختلافات علماء کی حد تک محدود رہنے سے فتنہ پیدا نہیں ہوتا۔ ایسے فتنہ گروں کا راستہ روکنا ہوگا، جو باہمی اختلافات کو ہوا دیکر امت مسلمہ کو تصادم کی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں۔ ملت تشیع کے اندر بھی ایسے اختلافات زور پکڑ رہے ہیں جو ہمارے لئے نقصاندہ ہیں، علماء کی ذمہ داری ہے کہ ان کی راہ میں رکاوٹ پیدا کریں۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ سیاسی اہداف اور استحکام پاکستان کے لئے شیعہ سنی جماعتوں کو یکجا ہونا ہوگا۔ پاکستان کی سالمیت و بقاء تکفیریت کے خاتمے سے مشروط ہے، جس کے لئے شیعہ سنی پورے عزم کیساتھ میدان میں موجود رہیں۔ پاکستان میں قانون کی عملداری اور انصاف کے فروغ کے لئے ہم خیال مذہبی جماعتوں کا سیاسی اشتراک وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس وقت لاقانونیت کا گہرا زخم ملک کے جسم میں رس رہا ہے۔ مسنگ پرسنز لاقانونیت کی بدترین مثال ہیں۔ کسی مہذب معاشرے میں اس کی اجازت نہیں۔ یہ وطن قانون شکن قوتوں کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے۔ اس ملک کی اپنی کوئی پالیسی نہیں، ہم نے ارض پاک کو بیرونی دباؤ سے آزاد ریاست بنانا ہے۔

علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی اپنی جغرافیائی، سیاسی اور معاشرتی ضرورتوں، قومی وقار اور عوامی امنگوں کے تابع ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ تکفیریت نے ایک طرف مسلمانوں کو ذبح کیا اور دوسری طرف اسلام کے روشن تشخص کو داغدار بنایا۔ ہماری سیاسی وحدت وقت کا تقاضا اور اہم ضرورت ہے۔ ملک دشمن بدعنوان لوگوں کا راستہ روکنے کے لئے ہم نے مل بیٹھنا ہے۔ مذہبی جماعتوں کا یہ قرب ہمارے سیاسی اتحاد کا آغاز ثابت ہو۔ ہم سے زیادہ اس وطن کے باوفا بیٹے اور کہیں نہیں۔ بہت جلد اس ملک کی باگ دوڑ اس ملک کے باوفا بیٹوں کے ہاتھ میں ہوگی۔ انہوں نے سمینار میں شریک مذہبی رہنماؤں اور مختلف علاقوں سے آئے ہوئے اراکین کا شکریہ ادا کیا۔
 
مغرب کیلئے سب سے بڑا خطرہ اسلام ناب محمدی (ص) ہے

مجلس علمائے شیعہ پاکستان کے سربراہ علامہ مرزا یوسف حسین نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، اتحاد جہاں جہاں ہوگا وہاں کامیابی نصیب ہوگی ۔

علامہ مرزا یوسف نے کہا کہ مغرب کے لئے سب سے بڑا خطرہ اسلام ناب محمدی ہے، امریکہ اور اسکے حواری اسلام محمدی کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، اسلام محمدی کے لئے مسلمانوں کو متحد ہونا ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ متحد ہو کر اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے ۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا انتالیس رکنی اسلامی ممالک کا اتحاد دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے بنایا گیا ہے؟، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ اسلام دشمن قوتیں اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے سازشوں میں مصروف ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کو ملکر ان سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا، ہمیں اپنے ہمسایہ ملک کے انقلاب اسلامی کو دیکھنا ہوگا اور اسکے لئے کی گئی جدوجہد کو اپنانا ہوگا تب ہی ہم کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
 
خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے امریکہ، اسرائیل اور سعودیہ کا سہہ فریقی منحوس گٹھ جوڑ وجود میں آچکا ہے

ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثاقب اکبر نے کہا ہے کہ وحدت امت کا مسئلہ مقامی نہیں بلکہ عالمی ہے اور اس کے دشمن بھی عالمی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے امریکہ، اسرائیل اور انڈیا کا سہہ فریقی منحوس گٹھ جوڑ وجود میں آچکا ہے، جس کا مقابلے کیلئے علاقائی بلاک کے وجود کی اشد ضرورت ہے، شیطانی اور ناپاک سہ فریقی اتحاد کا اصل سرغنہ امریکہ ہے، جو اسرائیل اور ہندوستان کی کمانڈ کر رہا ہے۔ گذشتہ روز امریکی سفارت کی جانب سے پاکستانی شہری کو ٹکر مار کر قتل کرنے کے اقدام پر ثاقب اکبر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سفارتی استثنٰی کے نام پر قاتلوں کو کھلی چھٹی نہیں دی جا سکتی۔ 13 اپریل کو بعد از نماز جمعہ مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کی حمایت میں آبپارہ میں مظاہرہ کیا جائے گا۔


ایسے کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے جو تکفیریت کی تقویت کا باعث ہو

مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر استعماری آلہ کاروں کی کوئی جگہ نہیں۔ ہم ظلم کے مخالف اور مظلوم کی حامی ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر ہمارا اصولی موقف ظلم اور ظالموں کے خلاف تھا۔

سید ناصر عباس شیرازی نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین نے شیعہ سنی اتحاد کو عملی شکل دی ہے۔ ایسے کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے جو تکفیریت کی تقویت کا باعث ہو۔ پاکستان میں پہلی اکثریت وہ اہلسنت ہیں جو لبیک یارسول اللہ ﷺ اور لبیک یاحسین ؑ کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی سفارتی اہلکار کی جانب سے بےگناہ پاکستانی شہری کے قتل کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ملوث اہلکار کو قانون کے مطابق سزا سنائی جائے، انہوں نے قاتل سفارتکار کی رہائی کی شدید مذمت کی۔ /۹۸۸/ ن۹۲۱

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬