‫‫کیٹیگری‬ :
05 May 2018 - 22:44
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 435817
فونت
آیت الله جوادی آملی:
حضرت آیت الله جوادی آملی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ علم و عقل معاشرہ کی اصلاح کرسکتے ہیں کہا: یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ امام زمانہ (عج) قتل و خونریزی کی بنیاد پر اسلامی حکومت کا قیام کریں گے کیوں کہ کسی بھی اسلامی حکومت کی بنیاد قتل و خونریزی پر نہیں رکھی گئی ہے ۔
آیت‎الله جوادی آملی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مفسر عصر حضرت آیت الله عبدالله جوادی آملی نے اپنے درس اخلاق کی نشست میں  جو اسراء سنٹر کے نماز خانہ میں منعقد ہوا ، نهج البلاغہ کی ۳۰ ویں حکمت کی تفسیر کرتے ہوئے کہا : اس جملہ میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے ایمان کے سلسلے میں سوال کیا گیا ہے اور حضرت نے ایمان کو «صبر، یقین، عدل و جہاد» سے تعبیر کیا ہے ۔

قران کریم کے برجستہ مفسر نے امام علی(ع) کی نگاہ میں آیت جہاد کے معنی کرتے ہوئے کہا: حضرت(ع) نے جہاد کو « فاسقوں کی دشمنی اور کینہ توزی کے مقابل امر بالمعروف اور نهی عن المنکرنیز صداقت و راستگوئی » سے تعبیر کیا ہے ۔

انہوں نے امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کو تعلیم ، ارشاد اور انتباہ کے سوا جانا اور کہا: وہ انسان جو جان بوجھ کر اور آگاہی کے ساتھ نیز بغیر کسی مجبوری کے گناہ کرے اسے امر بالمعروف نهی عن المنکر کیا جائے ، کیوں کہ آیات قران کریم کے مطابق بعض مومنین بعض مومنین پر ولایت رکھتے ہیں ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ علم و عقل معاشرہ کی اصلاح کرسکتے ہیں کہا: یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ امام زمانہ (عج) قتل و خونریزی کی بنیاد پر اسلامی حکومت کا قیام کریں گے کیوں کہ کسی بھی اسلامی حکومت کی بنیاد قتل و خونریزی پر نہیں رکھی گئی ہے ۔/۹۸۸/ ن۹۷۸

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬