17 May 2018 - 16:41
News ID: 435965
فونت
غلام علی خوشرو :
اسلامی جمہوریہ ایران نے مظلوم فلسطینی عوام پر صیہونی حکومت کے وحشیانہ مظالم اور جرائم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران، فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی قوم کی تحریک آزادی اور بیت المقدس کی مرکزیت میں ایک آزاد فلسطینی مملکت کے قیام پر مبنی فلسطینیوں کے قانونی مطالبات کی حمایت کرتا رہے گا۔
غلام علی خوشرو

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب غلام علی خوشرو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں او آئی سی کے رکن ملکوں کے مندوبین کے اجلاس میں کہا ہے کہ صیہونی حکومت نے گذشتہ تیس مارچ سے اب تک ایک سو گیارہ فلسطینیوں کو شہید اور دس ہزار سے زائد کو زخمی کیا ہے۔

  اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب نے کہا کہ صرف چودہ مئی کو صیہونی فوجیوں نے عزہ کی سرحد پر ساٹھ سے زائد فسطینیوں کا قتل عام کیا ہے۔ صہیونی فوج کے اس حملے میں ڈھائی ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے تھے۔

ایرانی مندوب غلام علی خوشرو نے کہا کہ چودہ مئی کو صیہونی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کے بہیمانہ قتل عام کے موقع پر ہی اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو اور ان کے مہمان امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کا جشن منا رہے تھے اور یہ دن عالم اسلام کے لئے ایک شرمناک دن ہے۔

انہوں نے اسلامی تعاون تنطیم او آئی سی کے رکن ملکوں سے کہا کہ وہ فلسطینی کاز کی حمایت کے لئے اپنے سبھی وسائل و ذرائع بروئے کار لائیں۔

ایرانی مندوب نے او آئی سی کے بعض رکن ملکوں کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی برقراری اور صیہونی حکومت کو تسلیم کرنے کے ہر طرح کے اقدام کو فلسطینی بہن بھائیوں سے غداری قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدام سے صہیونی حکومت کو اپنے مجرمانہ اور وحشیانہ اقدامات جاری رکھنے میں حوصلہ ملے گا اور یہ حکومت مزید گستاخ ہو گی۔

واضح رہے کہ علاقے کی بعض عرب حکومتیں منجملہ سعودی عرب، متحدہ عرب اور بحرین کی حکومتیں اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کی برقراری کی کوششیں یہ حکومتیں ایک  ایسے وقت کر رہی ہیں کہ جب صیہونی حکومت نے برسوں سے فلسطینیوں کو کچلنے کے ساتھ ساتھ عرب اسلامی ملکوں کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬