‫‫کیٹیگری‬ :
24 June 2018 - 16:14
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436371
فونت
افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں ایک معروف شیعہ عالم دین شیخ جعفر توکلی کی شہادت پر عوام نے گورنر ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جبکہ افغان صدر محمد اشرف غنی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے گھناؤنا جرم قرار دیا ہے۔
 اشرف غنی

رسا نیوز ایجنسی کی رہورٹ کے مطابق، افغانستان کے مغربی شہر ہرات کے شہریوں نے معروف عالم دین شیخ جعفر توکلی کی شہادت کے  واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گرد قاتلوں کی فوری شناخت کر کے انہیں جلد سے جلد سزا دے-

احتجاجی مظاہرے میں شریک لوگوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ مساجد اور علما کی جان کے تحفظ کو یقینی بنائیں-

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بھی ہرات کے معروف شیعہ عالم دین کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے گھناؤنا اور ناقابل معافی جرم قرار دیا-

افغان صدر نے کہا کہ علمائے دین کو نشانہ بنانا کسی بھی دین اور مذہب میں قابل قبول نہیں ہے اور یہ اسلامی اور انسانی اقدار کے منافی ہے-

انہوں نے متعلقہ اداروں سے کہا کہ وہ قاتلوں کو جلد گرفتار کر کے انہیں سخت سے سخت سزا دیں- افغانستان کے ممتاز عالم دین حجت الاسلام جعفر توکلی کو مسلح دہشت گردوں نے اس وقت گولی مار کر شہید کر دیا جب وہ نماز مغرب وعشا کے بعد مسجد سے نکل کر اپنے گھر واپس جا رہے تھے-/۹۸۹/ ف۹۴۰

 

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬