19 July 2018 - 10:17
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436641
فونت
یمن کی فوج کے ڈرون طیاروں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں آرامکو آئل ریفائنری کے آئی ڈپو پر حملہ کیا ہے جس کا اعتراف سعودی ذرائع نے بھی کیا ہے۔
یمن

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یمن کی فوج کے ترجمان نے ریاض میں آرامکو آئل کمپنی پر یمن کے ڈرون طیاروں کےمیزائل حملے کے بعد اعلان کیا کہ یمنی ڈرون طیاروں کی یہ کارروائی دشمنوں کے مقابلے میں دفاعی جنگ میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔

یمنی فوج کے ترجمان شرف لقمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی آئیل کمپنی آرامکو پر یمنی فوج کے کامیاب میزائلی حملے دشمنوں کے مقابلے میں جنگ کے نئے مرحلے میں ایک اچھا آغاز ہیں۔ یمنی فوج کے ترجمان نے کہا کہ بہت جلد یمنی فوج اور عوامی رضاکارفورس  کے ڈرون طیارے ایسے مزید میزائلی حملے کریں گے کہ جن سے دشمن مبہوت ہوکر رہ جائے گا۔

دوسری جانب یمن کی فضائیہ کے ترجمان عبداللہ حسن الجعفری نے بھی لبنان کے المیادین ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کے دوران اعلان کیا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب یمنی فوج کے ڈرون طیاروں نے ریاض میں آرامکو آئل ریفائنری پر میزائل سے حملہ کیا جس میں اس کمپنی کی تنصیبات میں آگ لگ گئی۔

خبروں میں کہا گیا ہے کہ یمنی فوج کے لمبی رینج کے ڈرون طیاروں صماد دو نے سعودی دارالحکومت ریاض میں آرامکو آئل کمپنی کی تنصیبات پر حملہ کیا۔ یہ پہلی بار ہے جب یمنی فوج نے صماد دو ڈرون طیاروں سے سعودی عرب کے اندر حملہ کیا ہے۔

سعودی عرب کی نیشنل آئل کمپنی نے یمنی فوج کے ڈرون طیاروں کے اس حملے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے سے آئیل کمپنی کی تنصیبات میں آگ لگ گئی۔

سعودی عرب کے اندر سعودی ٹھکانوں پر یمن کے میزائلی حملے اس بات کی علامت ہیں کہ یمن کی مشترکہ افواج کی دفاعی صلاحیتوں میں زبردست اضاف ہوا ہے اور اسی وجہ سے سعودی اتحاد سراسیمگی کے عالم میں دوسروں پر الزام عائد کررہا ہے - مبصرین کا کہنا ہے کہ یمن کے خلاف مسلط کی گئی جنگ کی داستان اب آل سعود کے لئے ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔

یمن پر مسلط کی گئی جنگ کے ابتدائی برسوں میں تو صرف آل سعود اور اس کے اتحادی ہی یمن پر حملے کرتے تھے اور یمنی عوام اپنے دفاع میں کچھ کرنے میں بے بس نظر آرہے تھے  لیکن اب  اس جنگ   کی داستان کا ورق الٹ رہا ہے۔ کسی دن سعودی اور اس کے اتحادیوں کے فوجی اڈے ، کبھی کوئی ہوائی اڈہ، کبھی سعودی شاہی محل اور کبھی ریاض میں آئیل تنصیبات یمنی فوج کے میزائلوں کا نشانہ بن رہی ہیں۔

ریاض میں آئل ریفائنری پر حملہ جہاں اس بات کو ثابت کردیتا ہے کہ اب صرف سعودی عرب ہی حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے بلکہ اسے بھی جوابی حملے کے لئے تیار رہنا چـاہئے وہیں اس حملے نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ سعودی عرب کی دفاعی توانائی بھی ایسی نہیں ہے کہ وہ یمنی فوج کے میزائلی حملوں کا دفاع کرسکے۔

ایسا لگتا ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس جنگ میں سعودی عرب کے نقصانات میں اضافہ ہوتا جائے گا کیونکہ گذشتہ چالیس مہینے سے جاری اس جنگ نے صاف کردیا ہے کہ یمن کی فوج اور عوامی رضاکارفورس نے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی توانائیوں میں غیر معمولی اضافہ کرلیا ہے اوردو سری جانب سعودی عرب کو جس نے غیر ملکی کرائے کے فوجی حاصل کئے ہیں زیادہ جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا ہوگا۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬