06 August 2018 - 15:14
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436795
فونت
ایک زمانہ تھا جب پاکستان سے روز ہی یہ خبر آتی تھی کہ فلاں شیعوں کی مسجد میں دہشت گردو ں نے گھس کر فائرنگ کر دی اور بے گناہ نمازیوں کے خون سے مسجد کو رنگین کر دیا ، کبھی سننے میں آتا کسی امام بارگاہ میں کسی دہشت گرد نے خود کو اڑا لیا جسکے نتیجے میں متعدد عزادار شہید ہو گئے کبھی خبر آتی کسی جلوس پر حملہ ہوا گیا ، یا پویس کے لباس میں آئے دہشت گردوں نے راست فائرنگ کے ذریعہ بے گناہ بوڑھوں ، عورتوں اور بچوں کو موت کی نیند سلا دیا ،کبھی کسی مزار پر حملے کی خبر آتی تو کبھی کسی خانقاہ کو نشانہ بنایا جاتا۔
دھشت گردی

تحریر: سید نجیب الحسن زیدی

ایک زمانہ تھا جب پاکستان سے روز ہی یہ خبر آتی تھی کہ فلاں شیعوں کی مسجد میں دہشت گردو ں نے گھس کر فائرنگ کر دی اور بے گناہ نمازیوں کے خون سے مسجد کو رنگین کر دیا ، کبھی سننے  میں آتا کسی امام بارگاہ میں کسی دہشت گرد نے خود کو اڑا لیا جسکے نتیجے میں  متعدد عزادار شہید ہو گئے کبھی خبر آتی کسی جلوس پر حملہ ہوا گیا ، یا  پویس کے لباس میں آئے دہشت گردوں نے  راست فائرنگ کے ذریعہ  بے گناہ بوڑھوں ، عورتوں اور بچوں کو موت کی نیند سلا دیا ،کبھی کسی مزار پر حملے کی خبر آتی تو کبھی کسی خانقاہ کو  نشانہ بنایا جاتا لیکن ان تمام دہشت گردانہ کاروائیوں میں ایک چیز مشترک ہوتی اور وہ یہ کہ جو ان حملوں کا نشانہ بنتے وہ سب کے سب بیشتر ایک عقیدے کے ماننے والے ہوتے خاص کر مساجد و امام بارگاہوں میں شہید ہونے والے تو یقینی طور پر  اپنے عقیدے کی بنا پر اس لئے نشانہ بنتے کے وہ شیعہ ہیں جبکہ مزار و خانقاہوں میں نشانہ بننے والے یا تو اسلئے نشانہ بنتے کہ  امن و سلامتی  کا پیغام عام کرنے والے صوفی منش لوگ ہیں یا اس لئے نشانہ بنتے کہ برملا اور واضح طور امام علی علیہ السلام سے اپنے عشق کا اظہار کرتے نظر آتے ،  مکتب کربلا سے وابستگی اور عشق علی ؑ کا اظہار یہ دونوں ہی وہ چیزیں تھیں جو ایک زمانہ تک  پاکستان کے کچھ علاقوں میں  ایک طرح سے جرم جانی جاتیں اور تکفیری عناصر انہیں موت کی نیند سلا کر اپنے لئے بزعم خود جنت کی راہ ہموار کر لیتے جو علیؑ علیؑ کرتے ،   غم کربلا کے ساتھ جینے اور مرنے  کا عہد کرتے اور سر عام یزیدیت  مردہ بار کے نعرے لگاتے ، اور حسین زندہ باد کہتے ہوئے  اپنے تاریخی پس منظر کو بیان کرتے ۔

پاکستان کی سرزمین پر  ہونے والے  ان حملوں  میں ایک اور چیز جو مشترک ہوتی وہ قاتلوں کا مذہب اور انکی فکر ،  جس طرح زیادہ تر دہشت گرد انہ کاروائیوں کا شکار ہونے والے مکتب اہلبیت سے وابستہ ہوتے  انکا جرم یہ ہوتا کہ اہلبیت اطہار علیھم  السلام سے عقیدت رکھتے ہیں اسی طرح  بیشتر   دہشت گردانہ کاروائیوں کا تعلق تکفیری اور سلفی فکر سے ہوتا۔ کل جو کچھ پاکستان میں ہو رہا تھا اور آج بھی دھڑکا لگا رہتا ہے کب کیا ہو جائے وہی آج افغانستان کی سرزمین پر ہو رہا ہے ،  کتنا عجیب ہے جو مذہب پاکستان  میں  بسنے والے تکفیری و سلفی   خاص فکر کے حامل انسانیت کے دشمنوں اور قاتلوں کا ہے وہی مذہب افغانستان میں  بسنے والے  کج فکر قاتلوں کا بھی ہے ،  تکفیری  عناصر کے ذریعہ مسجدوں اور امام بارگاہوں میں شہید ہونے والے  جس جرم کے مرتکب ہوئے اسی جرم کے مرتکب افغانستان کے بے گناہ بوڑھے جوان ، اور عورتیں بھی ہیں

یہ جرم ہے جرم محبت اہلبیت  ؑ  ،  یہ جرم معمولی نہیں ایسا جرم ہے کہ  جسکی بنا پر ب بزعم  خود بڑی آسانی سے دشمن کفر کا فتوای لگا کر تکفیری عناصر اپنی دہشت پسندانہ کاروائیوں کا جواز فراہم کر لیتے ہیں  لیکن   اب یہ اتفاق  ہی ہے کہ کربلا سے لیکر آج تک تکفیری و سلفی فکر نے بس فتوے لگا کر اپنے مد مقابل کو کافر کہہ کر اپنے لئے  محض ایک بہانہ ضرور تراشا ہے کہ اپنے ضمیر کو تھپکی دی جا سکے اور لوگوں کے سوال کا کوئی تو جواب ہوکہ جب پوچھا جائے بای ذنب قتلت تو کہا جا سکے کہ کافر تھے اس لئے قتل واجب تھا ، اس  بہانے کے سوا ،انکے پاس نہ اپنے ضمیر کی آواز دبانے کے لئے کچھ ہے نہ دوسروں کوجواب دینے کے لئے کچھ جبکہ  چاہے وہ سرزمین پاکستان ہو یا آج کی  افغانستان و شام کی زمین جنہیں قتل کیا جا رہا ہے ، انکے جسم کا قطرہ قطرہ اپنی حقانیت کی گواہی دے رہا ہے کہ اگر ہم سچائی و حق کے راستے پر نہ ہوتے تو ہمارا دشمن کیوں کر ہمیں جھوٹا پروپینگنڈہ کر کے قتل کرتا ، ہمارا قتل ہی ہماری صداقت و سچائی کی گواہی ہے  اور یہ ہمارے مد مقابل کی عاجزی ہے کہ اس کے پاس کوئی اور چارہ کارنہیں ہے  سوائے اسکے کہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ہمیں راستے سے ہٹا دیا جائے جبکہ یہ بھی اسکا گمانِ باطل ہے، ہم نے تو شہادتو ں کا سلیقہ کربلا سے سیکھا ہے ، یہ تو کربلا سے اب تک کی ریت چلی آ رہی ہے کہ ہر وہ سر کٹے گا جو انفردای و اجتماعی طور پر  ملک و قوم کی سربلند ی  کا سبب ہوگا ،ہم تو اپنی سربلندی کا خراج شہادتوں کے ذریعہ ادا کر رہے ہیں  اور کرتے رہیں گے  ،جب کربلا کے تپتے صحرا میں ہزارو ں کے درمیان سربلند محض ۷۲ تھے ، اور انہیں  باک  نہ تھا   ہزاروں سرنگوں یزیدیوں سے، تو آج ہمیں کیوں کسی سے ڈرنے کی ضرورت ہے ، نہ کل حسین  ؑنے  یزیدیت کے خوف سے اعلان حق چھوڑا تھا نہ آج ہم  حسینت کا درس دینے والی مسجدوں  اور امام بارگاہوں  کو چھوڑیں گے  نہ کل حسین نے یزیدیت کے خوف سے  اس کی بیعت کی تھی نہ آج ہم دامن حسینت کو چھوڑ کر استکباری آقاوں کے سامنے خم ہونا پسند کریں گے ۔

یہی وجہ ہے جن لوگوں پر ایک خاص طبقے کی جانب سے جس طرح کل عرصہ حیات کو پاکستان میں تنگ کر دیا گیا تھا آج افغانستان میں  ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے ، گزشتہ جمعہ  خونین جمعہ کو کون بھول سکتا ہے جہاں  ایک طرف  ایک شیعہ مسجد میں گھس کر ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا اور پھر دوسرے نے  تاباتوڑ فائرنگ کر کے ۲۹  یا اس سے زائد نمازیوں کو شہید کر دیا ،  شیعوں پر حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے   بلکہ گزشتہ دو سالوں میں یہ چھٹا یا ساتواں حملہ ہے جس میں خاص کر  شیعوں  کو نشانہ بنا کر شہید کیا گیا ہے  جبکہ افغانستان میں سودیت یونین کے خلاف جنگ کے دوران  کےعلاوہ  جب شیعہ و سنی مسلک و  فرقوں سے ماوراء اپنے دشمن سے اپنی  سرزمین کے لئے لڑ رہے تھے  ہمیشہ ہی شیعہ مظلوم رہے ہیں کون بھول سکتا ہے  ۹۰ کی دہائی میں کس طرح طالبان نے سفاکیت و درندگی کا ننگا ناچ  ناچتے ہوئے  ہزاروں  ہزارہ شیعوں کو صرف اسی جرم میں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا کہ وہ محبت اہلبیت ع کے مجرم تھے ، در اہلبیت سے وابستہ ہونے پر فخر کرتے تھے    ۔ علاوہ از ایں افغانستان میں بسنے والے قریب بیس فیصد شیعوں کو یوں تو ہمیشہ ہی اکثریت کی طرف سے مختلف خطرات رہے لیکن طالبان کے خاتمے کے بعد   کہا جا سکتا ہے کہ شیعوں کو ایک نسبی آزادی نصیب ہوئی تھی ، لیکن حالیہ ہونے والے حملوں اور ان کی کیفیت کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ  جیسے کچھ طاقتوں نے  جس طرح  پاکستان کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونک کر کھوکھلا کر دیا ویسے ہی کچھ طاقتیں در پردہ تکفیری عناصر کی پشت پناہی کرتے ہوئے افغانستان کو  تباہ و برباد کر دینے کے درپے ہیں ،  دور از قیاس نہیں کہ شام میں  لڑنے والے افغانستان کے  جیالے جوانوں کے عزم و ہمت کے سامنے بے بس ہونے کے بعد تکفیری و سلفی عناصر کو سامراج نے ایک نیا راستہ دکھا دیا ہو کہ اگر فاطمیون سے مقابلہ نہیں کر سکتے تو فاطمیون جیسے لشکروں کو تشکیل دینے والے  جوانوں کے وطن کو تو نا امن بنا سکتے ہو ،انکا نشیمن تو برباد کر سکتے ہو تاکہ ہم اپنے اہداف کو بہ آسانی حاصل کرتے چلے جائیں ، اور ہمارے مقابلے پر آنے والے افغانستان کے  جوان اپنے ملک و وطن میں اپنے خاندان والوں کی حفاظت کے لئے واپس اپنے وطن چلے جائیں ،۔

لیکن یہ تکفیری عناصر اور انکے مائی باپ بھول گئے کہ کربلائی عزم کے سامنے نہ وہ پاکستان میں ٹک سکے ، نہ شام میں اور نہ افغانستان میں ہی انہیں کچھ حاصل ہونے والا ہے ، اس لئے کہ شکست ہی انکی تقدیر ہے اور انکی تقدیر کی سطروں کو آج نہیں  ۱۴ سو سال پہلے لکھ دیا گیا تھا ، اور اس تحریر کو حسین ابن علی علیہ السلام نے یزید کے سامنے انکار بیعت کر کے کربلا کے تپتے ریکزاروں پر اپنے پاکیزہ  لہو سے لکھا تھا  سو زمین بدلے گی ، وقت بدلے گا لیکن حسینی انداز جو کل تھا وہی رہے گا ، کل پاکستان کی سرزمین تھی آج افغانستان کی ہے   اور کل اور کوئی ہوگی ۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

 

 

 

 

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬