‫‫کیٹیگری‬ :
09 December 2018 - 00:21
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 438849
فونت
حجت الاسلام والمسلمین رفیعی نے بیان کیا:
جامعہ المصطفی العالمیہ کے استاد نے کہا: الھی امتحانات کی مختلف قسمیں ہیں اور کوئی بھی اس امتحان سے نہیں بچ سکتا ، جس قدر بھی انسان کی معنوی منزل بالاتر ہوگی امتحان بھی اسی قدر سخت ہوگا ۔
حجت الاسلام والمسلمین ناصر رفیعی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ المصطفی العالمیہ کے استاد حجت الاسلام والمسلمین ناصر رفیعی نے ایک پروگرام میں الھی امتحانات کی اہمیت و منزلت کا جائزہ لیا ۔

انہوں نے یہ کہتے ہوئے سوره بقره کی ۱۲۴ ویں آیت میں حضرت ابراهیم علیه السلام کے لئے قران کریم میں نے فرمایا کہ وَإِذْ ابتلی إِبراهیمَ ربّه بِکَلمات فأتمهنّ قالَ إِنّی جاعِلُکَ لِلنّاسِ إِماماً قالَ وَمِنْ ذُرّیتی قالَ لا یَنال عَهدی الظّالمین ، اور ( وہ وقت یاد رکھو) جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات سے آزمایا اور انہوں نے انہیں پورا کر دکھایا، ارشاد ہوا : میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں، انہوں نے کہا: اور میری اولاد سے بھی؟ ارشاد ہوا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا ، یہ پہلی آیت ہے کہ جس میں حضرت کا نام آیا ہے کہ جو الھی پیغمبر کی آخری عمر سے متعلق ہے اور امامت کے اہم مسئلہ سے متعلق ۔

حجت الاسلام والمسلمین رفیعی نے کہا: اس آیت میں آیا ہے کہ خداوند متعال نے حضرت ابراهیم علیه السلام کی آزمائش کی کچھ «کلمات» کے ذریعہ کی اور حضرت بھی اس امتحان سے کامیابی کے ساتھ باہر آئے اس کے بعد خداوند متعال نے انہیں منصب امامت عطا کیا ۔

انہوں نے تاکید کی: «کلمات» سے مراد یہاں پر وہی الھی امتحان اورآزمائش ہے جو تسلسل کے ساتھ خداوند متعال کی جانب سے حضرت ابراھیم علیہ السلام کے لئے قرار دی گئی تھی ، جیسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنا ، ان کا آگ میں پھیکانا جانا ، بتوں کو توڑنا اور بت پرستی سے مقابلہ کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب کا سب الھی امتحان تھا ۔

جامعہ المصطفی العالمیہ کے استاد نے بیان کیا: الھی امتحانات کے مختلف طریقے ہیں اور کوئی بھی اس امتحان سے نہیں بچ سکتا ، جس قدر بھی انسان کی معنوی منزل بالاتر ہوگی امتحان بھی اسی قدر سخت ہوگا ، الھی امتحانات میں بندوں کے دوش پر کچھ ذمہ داریاں ڈالی جاتی ہیں کہ اس کا پہلا مرحلہ اس امتحان کو قبول کرنا اور پھر الھی مطالبات کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہے ۔

انہوں نے واقعہ کربلا کو حضرت سید الشهداء امام حسین علیہ السلام کے لئے سخت ترین الھی امتحان کا دن جانا اور کہا: شب معراج میں خداوند متعال نے رسول اسلام (ص) سے فرمایا کہ ہم آپ کی (شعب ابی‌طالب) میں بھوک ، کفار کے جھٹلائے جانے ، اہل بیت (حضرت علی، حضرت زهرا، امام حسن، امام حسین و دیگر معصومین علیهم السلام) کی شھادت کے ذریعہ امتحان کریں گے ، رسول اسلام(ص) نے بھی اس امتحان کو قبول کیا اور سرتسلیم خم کیا ۔

حجت الاسلام والمسلمین رفیعی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ الھی امتحانات کے امتیازات ہیں کہا: امتحان جس قدر بھی سخت ہوگا اس کا امتیاز بھی اسی قدر زیادہ ہوگا ، لہذا خداوند متعال نے امام حسین علیہ السلام کو امتحان کربلا کے بعد بہترین اور سب سے زیادہ اجر دیا ۔

انہوں نے مزید کہا: جب خداوند متعال نے حضرت ابراهیم علیه السلام کو مستقل امتحان کی منزل سے گزار لیا تب انہیں مقام امامت عطا کیا ۔

جامعہ المصطفی العالمیہ کے استاد نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ حضرت ابراهیم علیه السلام ابتداء میں نبی تھے اور پھر رسول ہوئے اور عمر کے آخر حصہ میں آپ کو منصب امامت عطا ہوا تاکید کی: مگر رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و وسلم ابتداء ہی میں نبی و رسول و امام تینوں منصب پرفائز تھے ۔

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ شیعہ عقیدہ کے تحت امام، خداوند متعال کی جانب سے منتخب ہوتا ہے کہا: امام دین و دنیا کو چلانے والا اور معصوم ہوتا ہے ، اسی بنیاد پر امامت کا عھدہ خدا کا عھدہ ہے  جو ظالموں تک نہیں پہونچ سکتا ، یہاں پر ظلم سے مراد وہ لوگ ہیں جہوں نے شرک کیا ہو ، گناہ کبیرہ و صغیرہ انجام دیا ہو اور حق الناس کھایا ہو ۔/۹۸۸/ ن ۹۷۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬