23 January 2019 - 18:36
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439596
فونت
مخدوم ابوالحسن گیلانی:
پاکستانی کے سنی عالم دین نے کہا: حکمراں نے ریاست مدینہ کے بہانے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر ان کے منہ سے نوالہ تک چھین لیا ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،انجمن عاشقان مدینہ رحیم سنٹر کے زیراہتمام محفل میلاد مصطفیٰ کی تقریب گدی نشین دربار پاک موسیٰ شہید ابوالحسن گیلانی کی زیرصدارت منعقد ہوئی، جس میں مہمان خصوصی قومی تاجر اتحاد جنوبی پنجاب کے صدر سلطان محمود ملک، سابق وفاقی وزیر مخدوم تنویر الحسن گیلانی، مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما مخدوم جاوید ہاشمی اور محمد ایوب مغل تھے۔

اس موقع پر ابوالحسن گیلانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کفار کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہوگا۔ آج غیر مسلم قوتیں مسلم ممالک میں دہشتگردی کی آڑ میں قتل عام کا کھیل کھیل رہی ہیں۔

سلطان محمود ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا تاجر تجارت کرتے ہوئے نبی پاک کے اصولوں کو سامنے رکھیں، جو لوگ تجارت میں ملاوٹ کرتے ہیں وہ ہم میں سے نہیں، ان کالی بھیڑوں کو تاجر برادری مل کر بے نقاب کرے، چند فیصد ملاوٹ مافیا ہم تاجروں کے چہرے کو داغدار بنانے پر تلے ہوئے ہیں، ہمیں مل کر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا، سابق وفاقی وزیر تنویر الحسن گیلانی، مخدوم جاوید ہاشمی، محمد ایوب مغل اور مفتی عثمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام کے مسائل کو حل کروانے کے لئے بڑے بڑے مسلم ممالک چھوٹے مسلم ملکوں کی مشکلات حل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران نے پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کا اعلان کیا، لیکن افسوس 6 ماہ گزرنے کے باوجود کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا، اُلٹا عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر ان کے منہ سے نوالہ تک چھین لیا گیا، عوام بھوک، افلاس اور مہنگائی سے تڑپ رہی ہے اور حکمران غیر ملکوں سے سرمایہ کاری کا راگ الاپ رہے ہیں، اس موقع پر ملک اکرم سگو، جعفر علی شاہ، خالد محمود ملک اور ایاز عطاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ (ص) کے لئے محفل میلاد منانا مسلمان کے لئے باعث فخر ہے، اس طرح کی محفل سے نئی نسل میں آپ کی عقیدت کا جذبہ بڑھ رہا ہے، دنیا میں محسن انسانیت محمد (ص) کی آمد سے ہی کفر کے اندھیر ختم ہوئے، ہمیں ان قوموں کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا، جو یہودی طاقتیں در پردہ اسلام کے خلاف سازش کر رہی ہیں، ہمیں دہشت گرد کہنے والے اصل میں خود دہشت گردی کروا کر الزام مسلم ملکوں پر لگاتے ہیں۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬