23 January 2019 - 21:48
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439599
فونت
علماء کرام یہ بات سمجھنا ہوگی کہ عزاداری ہماری قوت ہے، اسکا اہم حصہ مجالس امام حسینؑ ہیں، عوام اس کے تحفظ کیلئے جان قربان کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں ۔

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

دو سال پہلے کی بات ہوگی، ایک دوست کافی عرصے بعد بیرون ملک سے پاکستان تشریف لائے تھے، انہوں نے بڑے دردِ دل سے فون کیا کہ ڈاکٹر صاحب عجیب و غریب صورتحال ہوگئی ہے، مقامی مومنین دو حصوں میں بٹ چکے ہیں۔ ایک دوسرے کی مجالس و محافل میں آنا جانا نہ ہونے کے برابر ہے، میں ایک گروپ کی مجلس میں شریک ہوا ہوں، ہر دوسری بات پر دوسرے گروپ پر اعتراض ہو رہا تھا اور حرامی و حلالی کے فیصلے کئے جا رہے تھے۔ دوست کہنے لگے کہ اس سلسلہ کو کسی نہ کسی طرح روکنا ہوگا، نہیں تو آگے بڑھ کر یہ خلیج بریلوی دیوبندی کی طرح گہری ہو جائے گی اور ہم تمام تر مشترکات کے باوجود ضد میں آکر الگ الگ ہو جائیں گے، اس سے ہماری طاقت کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ ان کی بات بالکل درست تھی، تقسیمِ جہالت کا جو سلسلہ علم و شعور سے عاری بہت سے خطباء و ذاکرین نے شروع کیا تھا، اس کا نتیجہ سوائے تقسیم کے کچھ نہ تھا، تاکہ ان کی دکانداریاں چمکتی رہیں اور بعض لوگوں کی ایک مجلس کی فیس ستر ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے، ایک غریب مومن تو اپنے گھر میں مجلس کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

چند برس پہلے جان علی شاہ کاظمی صاحب جس بین الاقوامی سازش کا بڑی شدت سے تذکرہ کیا کرتے تھے کہ اب شیعوں کی طاقت کو باہم دست و گریبان کرکے ختم کیا جائے گا، وہ عملی جامہ پہنتی نظر آرہی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ اب وہی چیزیں جس سے ہماری قوت و طاقت ہے، انہی کے ذریعے ہمارے اندر اختلافات ڈالے جائیں گے اور یہی ہوا۔ شروع شروع میں نماز میں شہادت ثالثہ جیسے سراسر فقہی مسئلہ کے عنوان پر غیر ضروری بحث کا آغاز کرایا گیا اور ولایت علیؑ جو ہماری اساس اور پہچان ہے، جس پر کسی مومن کا کوئی اختلاف ہو ہی نہیں سکتا، اس حساس عنوان کے تحت حلالی و حرامی کے سرٹیفکیٹ بانٹے گئے۔ اگر یہ لوگ تھوڑا سا بھی ان احادیث اہلبیتؑ کا مطالعہ کر لیتے کہ جن میں حرمت مومن کو حرمتِ کعبہ سے افضل کہا گیا ہے تو یہ اس قسم کی جسارت نہ کرتے۔ کچھ عرصے سے اس گروہ نے بات کو مزید آگے بڑھا کر توحید پروردگار پر حملے شروع کر دیئے، ان کی کسی بھی مجلس میں چلے جائیں، علیؑ کو رب، علیؑ کو خالق اور بعض جگہوں پر علیؑ کو اللہ کے نعرے بھی لگائے جانے لگے اور اس کو ولایت کا نام دیا گیا۔ بقول ایک بزرگ عالم دین جس رفتار سے یہ لوگ گمراہی کی طرف بڑھ رہے ہیں، یہ شہادت امام علیؑ اور شہادت امام حسینؑ کا بھی انکار کر دیں گے اور مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ کچھ عرصہ پہلے کسی ابوجہل نے یہ بات کی۔

ان لوگوں نے تشیع کے طاقت کے مراکز کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا، مرجعیت جو ہماری اساس اور تشیع کا فخر ہے، اس پر حملے شروع کئے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یا تو یہ لوگ جاہل ہیں یا ان لوگوں کی یوکے یاترا کے کرشمے ہیں کہ برطانوی استعمار کے "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کے فارمولے کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایک دوست کے بقول ہم یوکے میں پوری پاکستانی شیعہ کمیونٹی مل کر ایسا پروگرام نہیں کرسکتے، جیسا پروگرام ایک آدمی کراتا ہے۔ پہلے لبنان اور اب عراق و شام میں مرجعیت کی بھرپور کامیابیوں نے دشمن کو اس نظام کی طاقت سے آگاہ کر دیا ہے، اب دشمن اسی پر حملہ آور ہوگا۔ ایک بزرگ عالم دین کے بقول حرمت تمباکو کا فتویٰ کامیاب ہوا تو ایک عالم آقائے شیرازی بزرگ سے ملنے گئے، دیکھا تو وہ بہت پریشان ہیں، عالم نے کہا آقا آپ کا فتویٰ کام کر گیا، آپ پریشان کیوں ہیں؟ اس پر انہوں نے فرمایا تھا کہ پریشان اس لئے ہوں کہ دشمن کو ہماری طاقت کا علم ہوگیا ہے، اس لئے اب ان کی اس کے خلاف سازشیں بڑھ جائیں گی۔

ان لوگون نے ایسی ایسی حماقتیں کیں کہ الامان و الحفیظ، محرم جیسے مہینے میں عزاداری جیسی ہماری پہچان کو بدنام کرنے کے لئے نیپال میں زنجیر زنی کے ذریعے مرنے اور دوبارہ جی اٹھنے کے من گھڑت واقعات سنا کر عام لوگ جو پہلے ہی مجلس، ماتم اور عزاداری کو عجیب نظر سے دیکھتے ہیں، انہیں مزید دور کر دیا گیا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس باشعور زمانے میں جب کوئی بھی شخص معمولی سا کام کرنے سے پہلے بھی سوچتا ہے، لوگ اپنے ایمان کی تعمیر کے لیے جہالت کے ایسے میناروں کو بلاتے ہیں اور اپنی جہالت میں اضافہ کرتے ہیں اور عزاداری جیسی قوت و طاقت کو کمزور کراتے ہیں۔ جن دنوں مومنین کے قلوب غم امام حسینؑ سے پر ہوتے ہیں، انہی دنوں میں ان کی حماقتوں کی وجہ سے دوسرے مسلک کے دوستوں کے لطیفے سوشل میڈیا پر مل رہے تھے۔

جب جہلا نے دیکھا کہ قوم تعلیم یافتہ ہو رہی ہے، لوگ بدل رہے ہیں، اب فقط گانوں کی طرز پر قصیدوں اور من گھڑت واقعات سنا سنا کر قوم کو زیادہ دیر اپنی طرف متوجہ نہیں رکھا جا سکتا تو انہوں نے قوم کو علماء سے بیزار کرنے کی مہم شروع کی، تاکہ اس کے ذریعے وہ اپنی جہالت چھپا سکیں۔ یہاں بانیاں نے انتہائی منفی کردار ادا کیا۔ بانیان کو چاہیئے تھا کہ وہ جس شخص کو مجلس امام حسینؑ کے لیے بلا رہے ہیں، اسے دیکھ بھال کر بلاتے، انہوں نے فقط یہ دیکھا کہ کس کے بلانے پر ہمارے پاس لوگ زیادہ آئیں گے اور بس یہی معیار ٹھہرا۔ وہ پڑھنے والا کفر، شرک یا غلو جو مرضی پڑھ رہا ہے، اس سے انہیں کوئی غرض نہیں رہی، جس سے مسائل نے جنم لیا۔ محسن ملت شیخ محسن علی نجفی نے فہم دین کے عنوان سے اور اسی طرح بزرگ علمائے کرام نے بشارت عظمیٰ کے عنوان سے قوم کو معارف اہلبیتؑ سے تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا۔

نوجوانوں کے لئے عروۃ الوثقی اور جامعۃ الکوثر کی طرف سے شارٹ کورسز نے بھی اچھا کام کیا، مگر دوسری طرف سے سلسلہ رکا نہیں بلکہ مزید آگے بڑھا، جس سے کچھ مومنین نے صریح غلو کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا سلسلہ شروع کر دیا، جس کی زد میں آصف علوی آیا۔ متحدہ علما بورڈ پنجاب نے جعفر جتوئی کی کفریات سننے کے بعد پابندی کا فیصلہ دیا۔ اس سے دوسری طرف کافی اضطرار پیدا ہوا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تھا تو اکثر پر پابندی لگ جائے گی اور بہت سے جیل چلے جائیں گے، جو کہ ایک حقیقت ہے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق کچھ لوگوں نے ان کے عقائد تحریری صورت میں اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوائے ہیں، تاکہ کونسل اپنی رائے دے، جس کے نتیجے میں ایسے لوگوں کے خلاف عام قانونی کارروائی نہ صرف آسان بلکہ ضروری بھی ہو جائے گی۔ کونسل اس مسئلہ پر الگ سے قانون سازی کا بھی کہہ سکتی ہے، تاکہ گمراہی کے اس سلسلے کو بند کیا جا سکے۔

اس تمام صورتحال میں درد دل رکھنے والے ذاکرین کرام سامنے آئے، انہوں نے علماء سے رابطہ کیا اور اب سننے میں یہ آیا ہے کہ مولانا افضل حیدری کی زیر صدارت علماء و ذاکرین کا اجلاس ہوا ہے، جس میں ان مسائل پر بات ہوئی ہے اور ایک ضابطہ اخلاق پر دستخط کئے گئے ہیں، جو بہت اچھی پیشرفت ہے۔ گھر کی بات ہے، گھر میں رہے تو اچھا ہے، گلی محلے میں جائے گی تو تماشہ ہوگا۔ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذاکرین کے لئے فضائل و مصائب کی ایسی کتب تیار کریں، جس میں آسان الفاظ میں شریعت مقدسہ میں ثابت چیزیں لکھی ہوں اور اسے ذاکرین کو فراہم کیا جائے۔ علماء کرام کو بھی یہ بات سمجھنا ہوگی کہ عزاداری ہماری قوت و طاقت ہے، اس کا اہم حصہ مجالس امام حسینؑ ہیں، لوگ اس پر خرچ بھی کرتے ہیں اور اس کے تحفظ کے لیے جان قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں، اس لیے مدارس میں مجالس عزا کے حوالے سے خصوصی حکمت عملی بنائی جائے۔ ذاکرین کی اکثریت درد دل سے ذکر امام حسینؑ کرتی ہے، کچھ جہالت اور کچھ پروپیگنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں، ان کے لیے کوئی ایسا نظام ترتیب دیا جائے کہ ان کی مراجع کرام سے ملاقاتیں ہوں، تاکہ انہیں اندازہ ہو کہ مرجعیت کیا ہے؟ اور تشیع کے لیے ان کی خدمات کیا ہیں؟ ذاکرین کا کام تو بہت سادہ سا ہے، وہ خود کو درست فضائل اور درست مصائب تک محدود رکھیں، ان موضوعات کو نہ چھیڑیں، جن کا انہیں علم نہیں ہے اور جو ان کے لیے مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬