‫‫کیٹیگری‬ :
14 December 2019 - 20:16
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 441754
فونت
سید حسن نصراللہ:
حزب اللہ لبنان کے  جنرل سکریٹری نے کہا کہ امریکن علاقہ کے ممالک میں ہونے والے عوامی مظاھروں سے ایران پر دباو ڈالنے کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے  جنرل سکریٹری حجت الاسلام و المسلمین سید حسن نصراللہ نے گذشتہ شب، لبنان کی حالیہ تبدیلی اور علاقائی ممالک کے حالات کے حوالے سے تقریر کی ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں مظاہرے ہوتے رہتے ہیں اور امریکہ مختلف ممالک میں فوری طور پر مداخلت کرکے مظاہرے کو گمراہ کر کے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے کہا: امریکا نے لبنان میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو پہلے دن سے ہی حزب اللہ کے خلاف ظاہر کرنے کی کوشش کی ۔

سید حسن نصراللہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی امریکہ ہی کی طرح لبنان کے مظاہروں کو حزب اللہ کو کمزور کرنے کا تاریخی موقع سمجھا کہا: حزب اللہ، لبنان میں امریکہ اور اسرائیل کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دے گی، حزب اللہ علاقے میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے لئے ایک عظیم خطرہ ہے۔

 

انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکا، لبنان، عراق حتی یمن میں ہونے والے عوامی مظاہروں کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے کہا: اگر اسرائیل، ایران پر حملہ کرنا چاہے گا تو ایران اس کا جواب خود دے گا کیونکہ ایران، خاموش رہنے والا اور صرف اپنے اتحادیوں کے سہارے چلنے والا ملک نہیں ہے ۔

حزب اللہ لبنان کے  جنرل سکریٹری مزید کہا: جو امریکہ پر اعتبار اور بھروسہ محض غلط فمھی ہے، امریکہ نے ثابت کردکھایا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کو مشکل وقت میں تنہا چھوڑ دیتا ہے۔

سید حسن نصراللہ نے لبنان کے داخلی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: حزب اللہ پہلے ہی دن سے سعد الحریری کے استعفی کی مخالف تھی اور یہ استعفی ملک کے سیاسی و اقتصادی حالات کی وجہ سے لبنان کے مفاد میں نہیں دیا گیا تھا اور اگر حکومت باقی رہتی تو لبنان کے حالات ایسے نہ ہوتے ۔

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ ملک کو مشکلات و مسائل سے باہر نکلنے کے لبنان کے پاس صرف دو راستے ہیں تاکید کی: یا ایسی حکومت تشکیل دی جائے جس میں سعد الحریری موجود نہ ہوں یا وہ وزیراعظم کے عہدے پر باقی رہیں اور ملک کے موجودہ مسائل کو حل کریں ۔/۹۸۸/ ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬