28 March 2020 - 22:41
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442392
فونت
میجر جنرل سلامی:
اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ نے یوم پاسدار کی مناسبت سے کہا ہے کہ امریکہ کو اپنی فوج امریکہ کی سرحدوں کے اندر رکھنی چاہیے امریکی فوج کی ہمارے خطے میں کوئی ضرورت نہیں ہے۔

رسا ںیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی نے یوم پاسدار کی مناسبت سے کہا ہے کہ امریکہ کو اپنی فوج امریکہ کی سرحدوں کے اندر رکھنی چاہیے امریکی فوج کی ہمارے خطے میں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ سپاہ پاسداران ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی ۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ملک کی سلامتی اور قوم کی سربلندی کے لئے فداکاری، وفاداری ، ایثار اور قربانی کے شاندار جلوے پیش کئے ہیں اور سپاہ ملک و قوم کی سرافرازی اور سربلندی کے سلسلے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرےگی۔

میجر جنرل سلامی نے خطے میں موجود امریکی فوجیوں کی موجودگی کو خطے کی امن و سلامتی اور علاقائی اقوام کے لئے مضر قراردیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج کی خطے میں موجودگی خود ان کے لئے بھی خطرہ ہے کیونکہ اگر وہ علاقائی اقوام کے لئے خطرے کا سبب بنیں گی تو علاقائی اقوام انھیں ہر گز برداشت نہیں کریں گے ۔ انھوں نے کہا کہ امریکی فوج علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردوں کی آشکارا طور پر پشتپناہی کررہی ہے۔

میجر جنرل سلامی نے عراق میں عین الاسد میں واقع امریکی فوجی اڈے پر ایران کے میزائل حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کی طاقت کو محسوس کرلیا ہے اور اسے اچھی طرح علم ہے کہ ایران خطے سے امریکی فوج کا خاتمہ کرسکتا ہے۔

سپاہ کے سربراہ نے کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں سپاہ کے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سپاہ نے وزارت صحت کے ساتھ ملکر اس وباء کے آغاز سے ہی اپنی تمام توانائیوں کو ایرانی قوم کے خدمات کے لئے پیش کردیا اور اس سلسلے میں قم ، تہران اور دیگر صوبوں میں سپاہ کی خدمات نمایاں ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ سپاہ اور رضاکار فورس کے ہزاروں اہلکار شہروں کو اسپرے کرنے اور طبی عملے کے ساتھ تعاون ميں مصروف ہیں۔/۹۸۸/ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں
پسندیده خبریں