31 March 2020 - 22:07
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442418
فونت
محمد محیی :
حزب اللہِ عراق اور عوامی رضا کار فورس نے کہا کہ دہشت گرد امریکی فوج کی نقل و حرکت پر ان کی نظر ہے اور امریکا کی ہر جارحیت کا بھر پور مقابلہ کیا جائے گا۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہِ عراق اور عوامی رضا کار فورس الحشد الشعبی نے ملک میں امریکی افواج کی ریشہ دوانیوں سے ہوشیاری کی ضرورت زور دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ دہشت گرد امریکی فوج کی نقل و حرکت پر ان کی نظر ہے اور امریکا کی ہر جارحیت کا بھر پور مقابلہ کیا جائے گا۔

عراق کی حزب اللہ بریگیڈ کے ترجمان محمد محیی نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں امریکیوں کی نقل و حرکت محض اتفاقی نہیں بلکہ عراق میں امریکی فوج کی دوبارہ تعیناتی کا امکان پایا جاتا ہے۔

ترجمان حزب اللہ نے کہا کہ ملک کے تمام مزاحتمی دھڑے اور خاص طور سے حزب اللہ بریگیڈ امریکی فوج کے ساتھ محاذ آرائی کی پوری طاقت اور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عراق کے اندر اور باہر سے مزاحمتی قوتوں پر امریکی حملے کی سازش سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں۔

دوسری جانب فرانس پریس نے گزشتہ شب انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے عراقی کردستان کے شہر اربیل کے فوجی اڈے اور عین الاسد چھاؤنی میں پیٹریاٹ میزائل سسٹم نصب کر دیا ہے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی سرکردگی میں قائم نام نہاد داعش مخالف عالمی اتحاد کے فوجیوں نے کرکوک میں قائم K1 نامی فوجی اڈہ خالی کر دیا ہے۔

داعش کے خلاف جنگ کے دعوے دار اس اتحاد نے چند روز قبل شمالی اور مغربی عراق میں بھی اپنے دو فوجی اڈے خالی کر دیئے تھے۔

درایں اثنا عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی نے امریکہ کے ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے اپنی آمادگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکیوں کو ایسا جواب ملے گا جو انہوں نے سوچا بھی نہ ہوگا۔

عراق کی عوامی رضاکار فورس کے سیدالشھدا بریگیڈ کے ترجمان کاظم الموسوی نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ فوجی ٹھکانوں پر امریکی حملے کی صورت میں ملک اور اقتدار اعلی کا دفاع کرنا صرف مزاحمتی قوتوں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری بن جائے گا۔

اسی دوران عراقی ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکہ اپنا سفارت خانہ بھی بغداد کے گرین زون سے صوبہ الانبار میں قائم عین الاسد چھاونی میں منتقل کرنا چاہتا ہے۔

المعلومہ ویب سائٹ نے ایک آگاہ ذریعے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکی فوج نے عین الاسد ایئر بیس کی عمارت کو البغدادی کی جانب توسیع دی ہے اور خفیہ اطلاعات کے مطابق امریکی فوجی اور حکومتی عہدیدار سفارت خانے کو مذکورہ فوجی اڈے منتقل کرنے کے منصوبے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

مذکورہ عراقی ذریعے کے مطابق قرائن و شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ عین الاسد چھاونی میں سفارت خانے کی منتقلی کا فیصلہ اس تناظر میں زیر غور ہے کہ یہ چھاونی عراق میں امریکہ کی سب سے محفوظ چھاونی ہے اور امریکی طیارے اور ڈرون چوبیس گھنٹے اس علاقے پر پرواز کرتے رہتے ہیں۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬