18 May 2020 - 16:26
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442764
فونت
سعودیہ میں تیزی سے گرتی معیشت کی کئی وجوہات ہیں، پچھلے کچھ عرصہ میں تیل کی قیمتیں بڑی تیزی سے نیچے آئی ہیں۔ کرونا کیوجہ سے تیل کی طلب میں ہونیوالی بڑی کمی نے مزید دھچکا لگایا۔ معیشت کی تباہی کی سب سے اہم وجہ جس نے سعودی عرب کو ہلا کر رکھ دیا۔

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

ایک انگریزی اخبار کی سرخی دیکھ رہا تھا، جس کا ترجمہ ہے "آسمان سے باتیں کرتے سعودی قرضے۔" سچ پوچھیں تو مجھے بڑی حیرت ہوئی اور اس کا ایک تاریخی پس منظر ہے، صرف چند سال پہلے سعودی عرب اس حوالے سے خبروں میں تھا کہ یہ ایسا ملک ہے، جس پر سب سے کم قرض ہے۔ سعودی عرب کے نام سے الگ ملک اس طرح سے کبھی اس خطہ زمین پر موجود نہیں رہا۔ اس خطہ کو عام طور پر حجاز و نجد کہا جاتا ہے۔ تاریخی کتب میں اس کو اسی نام سے ذکر کیا جاتا ہے۔ زمانہ قدیم سے یہ خطہ اہل عرب کے لیے مقدس حیثیت رکھتا ہے۔ خانہ خدا یہاں موجود تھا، اس لیے عرب اسے خاص مقام دیتے تھے، مذہبی مرکز ہونے کی وجہ سے یہ تجارت کا مرکز بھی بن گیا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ جب اپنے فرزند حضرت اسماعیل ذبیح اللہ کے ساتھ ملکر بیت اللہ کی دیواریں بلند کر رہے تھے تو اپنی آنے والے اولاد کے لیے دعائیں مانگ رہے تھے۔ ان دعاوں میں دو مطالب اہم ہیں، ایک یہ کہ پرودگار لوگوں کے دلوں کو اس ارض مقدس کی طرف موڑ دے۔ اللہ نے یہ دعا ایسے قبول کی کعبہ دلوں کی دھڑکن ہے اور ایمان کو حرارت بخشتا ہے۔ دوسری دعا  لوگوں کی معیشت کے بارے میں تھی، اللہ نے اسے بھی قبول کیا۔

دیکھا جائے تو مکہ ایک خشک اور بنجر علاقے میں ہے، مگر یہ تجارت کا مرکز بن گیا۔ یہاں عکاظ جیسا بڑا تجارتی مرکز قائم ہوا، جو بعد میں پھیلتے پھیلتے ثقافتی مرکز بھی بن گیا۔ عکاظ کے عربوں کی زندگیوں پر کیا اثرات تھے؟ یہ الگ موضوع ہے، جس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ اہل حجاز ہمیشہ مسلمانوں کے میزبان ہونے کی وجہ سے قابل احترام رہے اور دنیا بھر کے مسلمان بادشاہ ان کا خیال رکھا کرتے تھے۔ تیل کی دریافت سے قبل یہ مالی عیاشی نہ تھی۔ کہیں پڑھ رہا تھا کہ مسجد نبوی کے متولی نے نظام حیدر آباد کو لکھا کہ مسجد نبوی شریف کا پچیس فیصد فرش اکھڑ چکا ہے، قافلے آتے ہیں تو لوگوں کے کپڑے وغیرہ خراب ہو جاتے ہیں، اس لیے پچیس ہزار روپے مل جائیں تو ہم اس حصے کو نیا بنا لیں گے۔ نظام نے جواب میں لکھا ایک لاکھ بھجوا رہا ہوں، پورا فرش نیا ڈلوا لیں۔ یہ مسلمانوں کی رسول اکرمﷺ اور بیت اللہ شریف سے عقید کی اعلیٰ مثال ہے۔

تیل کی دریافت نے روایتی سعودی سوسائٹی کو تہہ و بالا کر دیا، قبائلی معاشرہ شہری معاشرے میں بدلنے لگا، اونٹوں پر مسلسل سفر میں رہنے والوں کا سفر بھی تمام ہونے لگا۔ نسل در نسل خیموں میں رہنے والے اور غلہ بانی سے سب کچھ حاصل کرنے والے دولت کے زور پر شہروں میں سہولیات کے ساتھ بسائے گئے۔ چھوٹے چھوٹے قصبے بڑے شہر بن گئے اور اونٹ کی جگہ جدید ذرائع نقل و حمل نے لے لی۔ تیل کے بے تحاشہ پیسے سے کچھ پیسہ اس بات پر لگایا گیا کہ لوگوں کو کچھ ایسی سہولتیں دے دو، جس کے نتیجے میں یہ سیاسی معاملات سے بے خبر رہیں اور حکومتی جبر کے خلاف نہ ہو جائیں۔ صفائی سے لیکر انجینئر و ڈاکٹر تک باہر سے بلائے جاتے ہیں، مقامی لوگوں کو اتنا تعلیمی شعور نہیں دیا گیا۔

سعودی عرب بڑی تیزی سے مقروض ہو  رہا ہے اور دن بدن رفتار پہلے سے تیز ہوتی جا رہی ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدان نے کہا ہے کہ اس سال 58 ارب ڈالر کا قرض لیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق سعودی عرب کے قرض میں یہ اضافہ پچھلے پانچ سال میں دیکھنے میں آیا ہے، 2014ء میں سعودی عرب پر صرف بارہ ارب ڈالر قرضہ تھا۔ پچھلے پانچ سال میں اس میں پندرہ سو فیصد اضافہ ہوا ہے، جو کہ حیران کن ہے۔ ورلڈ بنک کے مطابق 2018ء تک سعودی عرب کا قرضہ 151 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا اور محض ایک سال کے عرصے میں یہ قرض 2019ء میں 181 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، یعنی صرف ایک سال کے عرصہ میں تیس ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ یہ صرف قرض کی صورتحال نہیں ہے، سعودی عرب کے ریزروز 2014ء میں 732 ارب ڈالر تھے، جو کم ہو کر  2019ء میں 499 ارب ڈالر ہوگئے ہیں محض پانچ سال کے عرصے میں  233 ارب ڈالر کم ہوگئے۔ یہ صورتحال صرف باہر سے قرض لینے تک محدود نہیں ہے،بلکہ بڑے پیمانے پر سعودی عرب کی سرکاری املاک بیچی جا رہی ہیں۔

تیزی سے گرتی معیشت کی کئی وجوہات ہیں، اہم یہ کہ پچھلے کچھ عرصہ میں تیل کی قیمتیں بڑی تیزی سے نیچے آئی ہیں۔ کرونا کی وجہ سے تیل کی طلب میں ہونے والی بڑی کمی نے مزید دھچکا لگایا۔ معیشت کی تباہی کی سب سے اہم وجہ جس نے سعودی عرب کو ہلا کر رکھ دیا، وہ سعودی عرب کی خطے میں جاری براہ راست  مداخلت اور پراکسی وارز ہیں۔ یمن پر براہ راست مسلسل پانچ سال سے جنگ مسلط کر رکھی ہے، اس کے لیے دنیا کے بیالیس ممالک سے فوج منگوائی گئی ہے، جس پر بھاری اخراجات آرہے۔ گرتی معیشت کے اثرات یمنی جنگ پر بھی پڑ رہے ہیں، کل ہی ایک تصویر دیکھ رہا تھا، جس میں محاذ پر ایک یمنی سعودی فوجیوں کو ناشتہ دے رہا ہے اور شرم کی حد دیکھیں سعودی فوجی وہ ناشتہ لے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لیبیا اور شام میں بھی سعودی عرب نے بے تحاشہ وسائل جھونکے ہیں، جس سے شام اور لیبیا میں تو کچھ حاصل حصول نہ ہوا، اس غلط فیصلے نے سعوی معیشت کی چولیں ہلا دی ہیں۔

اس معاشی بحران کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ بڑی تعداد میں عوامی سبسڈیز ختم کی جا رہی ہیں۔ محمد بن سلمان کے 2030ء پروجیکٹ پر کام کی رفتار کم ہوگئی ہے اور  اس سے 8 بلین ڈالر کی رقم کاٹی گئی۔ لاکھوں مزدور تنخواہوں کے بغیر بیٹھے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں ماہانہ مزدور نوکریوں سے فارغ کیے جا رہے ہیں۔ عمرہ اور حج سے ہونے والی آمدن بھی اس سال نہ ہوسکے گی، اس سے ہوٹلز اور دیگر کئی بزنس تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ سعودی عرب کے حکمران خاندان کو غیر ضروری جنگوں سے نکلنا ہوگا اور یمن و شام کے مسلم عوام کے خلاف جاری ظالمانہ پالیسی تبدیل کرنا ہوگی اور اپنے مسائل کو خود حل کرنے کے لیے مسلم اقوام سے تعلقات بڑھانے ہوں گے، تبھی اس معاشی بحران سے نکل سکتے ہیں۔ کاش سعودی عرب نے اس پیسے کا عشر عشیر بھی اہل فلسطین کے لیے خرچ کیا ہوتا تو آج ندامت کے یہ ایام نہ دیکھنے پڑتے۔/۹۸۸/ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں
پسندیده خبریں