22 July 2020 - 16:34
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 443246
فونت
رہبر انقلاب اسلامی :
رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ آیت اللہ سیستانی اور حشد الشعبی عراق کے پاس دو بڑی نعمت ہے جس کی حفاظت کرنا چاہئے۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عراق کے وزیر اعظم مصطفی الکاظمی سے ملاقات میں کہا کہ ایران اور عراق کے روابط بے شمار تاریخی، مذہبی، ثقافتی اشتراکات اور حقیقی معنی میں برادرانہ عادات و اطوار کے ذخیرے پر استوار ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نزدیک دو طرفہ تعلقات میں جو چیز خاص اہمیت رکھتی ہے وہ عراق کے مفادات و منفعت، سلامتی، وقار، علاقائی اقتدار اور حالات کی بہتری ہے۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے واشگاف الفاظ میں فرمایا کہ ایران کا عراق کے داخلی امور میں مداخلت کا کبھی ارادہ تھا نہ رہے گا، آپ نے فرمایا کہ ایران، عراق کو باوقار و خود مختار اور اس کی ارضی سالمیت اور داخلی اتحاد و یکجہتی کو محفوظ دیکھنا چاہتا ہے اور یقینا ہر اس چیز کا مخالف ہے جو حکومت عراق کو کمزور کرے۔

رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ عراق کے بارے میں امریکیوں کا نقطہ نگاہ ہمارے عین مخالف ہے کیونکہ امریکہ حقیقت میں دشمن ہے جو خود عراق کو خود مختار، مقتدر اور اکثریت حاصل کرنے والی حکومت سے بہرہ مند نہیں دیکھنا چاہتا۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے زور دیکر فرمایا کہ امریکیوں کے لئے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ کون شخص عراق کا وزیر اعظم بنتا ہے، انھیں تو بس ایسی حکومت چاہئے جو صدام کی سرنگونی کے بعد عراق میں امریکی حکمراں پال بریمر نے تشکیل دی تھی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکہ سے عراق کے روابط کے بارے میں ایران کوئی مداخلت نہیں کرتا لیکن یہ توقع ضرور ہے کہ عراقی احباب امریکہ کو پہچانیں اور یہ سمجھیں کہ کسی بھی ملک میں امریکہ کی موجودگی فساد اور تباہی و بربادی کا سبب ہے۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے زور دیکر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو توقع ہے کہ امریکیوں کے اخراج سے متعلق عراقی حکومت، عوام اور پارلیمنٹ کے فیصلے پر عمل ہو کیونکہ ان کا وجود بدامنی کی جڑ ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے جنرل سلیمانی اور ابو المہدی المھندس کو شہید کرنے کے امریکہ کے مجرمانہ اقدام کو امریکیوں کی موجودگی کا نتیجہ قرار دیا اور عراقی وزیر اعظم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ انھوں نے آپ کے مہمان کو آپ کے گھر کے اندر قتل کر دیا اور صراحت کے ساتھ اس کا اعتراف بھی کیا، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس واقعے کو ہرگز بھولنے والا نہیں اور طے ہے کہ امریکیوں پر جوابی وار کرے گا۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے جناب الکاظمی کی حکومت کے سلسلے میں عراق کی سیاسی جماعتوں اور گروہوں کے اجماع کی تعریف کی اور فرمایا کہ امریکہ اور اس کے ایجنٹ علاقے کے ملکوں میں ہمیشہ خلا کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ نراجیت پھیلائیں اور اپنی مداخلت کے لئے سازگار حالات فراہم کریں، انھوں نے یہی کام یمن میں کیا اور آج یمن کی افسوسناک صورت حال سب کے سامنے ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کی جانب سے جناب کاظمی کی حکومت کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عقل، دین اور تجربات کا تقاضا یہ ہے کہ تمام شعبوں میں ایران اور عراق کے روابط میں پہلے سے زیادہ وسعت آئے۔

آپ نے فرمایا کہ بے شک ایران عراق روابط کے کچھ مخالفین ہیں جن میں سر فہرست امریکہ ہے تاہم امریکہ سے ہرگز ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ امریکی مشکلات اور پریشانیاں پیدا کریں گے لیکن عراقی حکومت کو چاہئے کہ ان چیزوں پر توجہ دئے بغیر اپنے راستے پر گامزن رہے اور عوامی حمایت کو سب سے اہم سرمائے کے طور پر محفوظ رکھے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے دینی قیادت اور آیت اللہ سیستانی کی ذات کو عراق کے لئے بہت بڑی نعمت قرار دیا اور فرمایا کہ حشد الشعبی عراق کے پاس دوسری بڑی نعمت ہے جس کی حفاظت کرنا چاہئے۔

اس ملاقات میں ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری بھی موجود تھے۔ اس موقع پر عراق کے وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے رہبر انقلاب اسلامی سے اپنی ملاقات کو ایک بڑی سعادت قرار دیا اور مختلف مراحل میں، خصوصا داعش اور تکفیریوں کے خلاف جنگ کے دشوار مرحلے میں ایران کی جانب سے عراق کی حمایت و پشت پناہی کی قدردانی کی اور کہا کہ عراق کے عوام ایران کی حمایت کو کبھی فراموش نہیں کریں گے اور حقیقت یہ ہے کہ تکفیریوں سے جنگ میں عراقیوں اور ایرانیوں کا خون ایک دوسرے سے آمیختہ ہے۔

عراق کے وزیر اعظم نے کہا کہ ایران اور عراق کے روابط گہرے طولانی تاریخی و ثقافتی و مذہبی تعلقات ہیں جن کی بنیاد اہل بیت علیہم السلام سے عقیدت و محبت ہے۔

مصطفی کاظمی نے رہبر انقلاب اسلامی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جناب عالی کی ہدایات اور نصیحتیں مشکلات کے حل کی کنجی ہیں اور میں اس رہنمائی کی بابت آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں