‫‫کیٹیگری‬ :
15 July 2013 - 16:01
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5647
فونت
آیت ‌الله مصباح یزدی:
رسا نیوز ایجنسی – آیت ‌الله مصباح یزدی نے اپنے سلسلہ وار اخلاق کے درس میں بیان کیا: 33 روزه جنگ میں الھی امداد حزب اللہ کے شامل حال رہی تھی ۔
آيت الله مصباح يزدي

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، سرزمین ایران کی نامور شخصیت آیت ‌الله مصباح یزدی نے ماہ مبارک رمضان کے موقع پر اپنے سلسلہ وار درس اخلاق میں جو رھبر معظم انقلاب اسلامی ایران کے قم کے دفتر میں منعقد ہوا کہا کہ قران کریم نے میدان جھاد میں صبر و استقامت تاکید کی ہے ۔


آیت ‌الله مصباح یزدی نے کہا: صبر کا سب سے پہلا فائدہ دشمن کی سازشوں اور چالبازیوں سے نقصان نہ پہونچنا ہے مگر اس سلسلہ میں اھم یہ ہے کہ صبر، تقوی الھی کے ھمراہ ہو وگرنہ خدا کی حمایت اور ہدایت کی توقع بجا ہوگی  ۔


حوزہ علمیہ قم میں درس اخلاق کے استاد نے دشمن کی تعداد یا امکانات سے خائف نہ ہونے کے حوالہ سے قران کریم کی فرمایشات کی جانب اشارہ کیا اور کہا: جنگ بدر، خدا کی مومنین کو الھی امداد پہونچانے کا کھلا نمونہ ہے، جنگ بدر میں کچھ اس طرح عمل کیا گیا کہ جنگ مسلمانوں کے حق میں ختم ہوئی ۔


انہوں نے مزید کہا: جنگ بدر میں الھی امداد کچھ اس طرح تھی کہ اگر یہ الھی امداد نہ ہوتی تو یقینا مسلمان ہار جاتے کیوں کہ مسلمان بہت کمزور تھے ، اور اس امداد الھی میں پیغمبراسلام کی دعا بہت کارساز تھی کہ خدا کی جانب سے فرشتے مامور کئے گئے کہ مومنین کو مدد پہونچائیں ۔


آیت ‌الله مصباح یزدی نے جنگ بدر کو صبر و استقامت کے فائدہ کا کھلا نمونہ جانا اور کہا: بدر درحقیقت صبر کی درسگاہ ہے ، جنگ بدر میں مومنین نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ صبر و ایمان کے اسلحہ کے ذریعہ کثیر دشمن پر پیروز ہوسکتے ہیں ۔


انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ صدر اسلام کے مسلمان اس طرح کے وعدے اور پیروزیوں پر یقین رکھتے تھے کہا: اج اس بات پر بہت کم لوگوں کو یقین رہ گیا ہے ، مگر غاصب صھیونیت سے حزب اللہ لبنان کی 33 روزه جنگ میں ھم بعض الھی امداد کے بخوبی نظارہ گر رہے ۔


حزب اللہ لبنان سے 33 روزه جنگ میں صھیونی فوجی بارہا و بارہا عقب نشیں ہوئے


آیت ‌الله مصباح یزدی نے حزب اللہ کے جنرل سکریٹری سید حسن نصرالله سے سنی باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: سید حسن نصرالله نے خود ھم سے بیان کیا کہ صھیونی فوجی بارہا و بارہا پیچھے ہٹے اور ان فوجیوں کا کہنا تھا کہ ہاتھوں میں شمشیریں لئے سفید پوش فوجی ھم پہ حملہ ور تھے اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ بات ٹی وی رپورٹرز سے انٹرویو میں بھی بیان کی  ۔


انہوں نے کہا: ھم نے اٹھ سال ایران – عراق جنگ میں بھی اس الھی امداد کو بخوبی دیکھا جو مختلف علاقہ سے جنگجووں اور فوجیوں کی زبانوں سے نقل کی گئی ہیں ۔


الھی امداد شرعی احکامات و قوانین کی مراعات میں پنہاں ہے


انہوں نے صبر اور تقوی الھی کو ایک دوسرے کا لازمہ قرار دیا اور کہا: اگر انسان راحت طلب ہوجائے یا شرعی احکام و قانونین کی جنگ میں مراعات نہ کرے ۔ غرور، خدا پر اعتماد کی جگہ لے لے تو پھر ھرگز الھی امداد مسلمانوں کو نصیب نہیں ہوگی ۔


حوزہ علمیہ قم کے مشھور استاد نے یاد دہانی کی: سعادت و خوشبختی فقط سختیوں اور دشواریوں کی راہ سے گزر کر ہی حاصل ہوسکتی ہے ۔


انہوں نے مزید بیان کیا: خداوند متعال نے قران کریم میں جنگ بدر کی داستان بیان کی ہے جو مادی اور دنیاوی جھاد کے نتائج ہیں اگرچہ اولیاء الھی اس میں خدا سے محبت اور انبیاء کی ھمنشینی ضروری سمجھتے ہیں مگر دنیاوی فوائد کا تذکرہ ضعیف الایمان انسانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ہے ۔


دشمنوں کی رسوائی اور مومنین کی خوشحالی جھاد فی سبیل اللہ کا ثمرہ


آیت‌ الله مصباح یزدی نے ان کی ایات، جن میں جھاد فی سبیل اللہ کے دنیاوی فوائد کا اشارہ کیا گیا ہے کہا: قران نے مومنین سے خطاب میں فرمایا کہ « خدا کے دشمنوں سے لڑو تاکہ انہیں شکست دے سکو اور خداوند متعال تمھارے ہاتھوں انہیں عذاب کا مزا چکھا سکے »


انہوں نے تاکید کی: کافر و مشرک، مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب دئے جائیں در حقیقت یہ ایت قران کریم کے وحدانی پیغامات میں سے ہے  ۔


امام خمینی(ره) تعلیمی و تحقیقی سنٹر کے سربراہ نے اخر میں بیان کیا: اس دنیا میں جھاد فی سبیل اللہ کا ایک اور فائدہ، دشمن خدا کی رسوائی اور مومنین کے دلوں کی خوشحالی ہے  ۔

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬