‫‫کیٹیگری‬ :
25 July 2013 - 13:15
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5703
فونت
آیت الله شفیعی نے بیان کیا ؛
رسا نیوز ایجنسی ـ ایران کے بزرگ عالم دین نے اس بیان کے ساتہ کہ عباسی خلفاء نے امام حسن علیہ السلام سے اپنی ناراضگی و غصے کا بدلہ حدیث جعل کرا کے نکالتے تھے وضاحت کی : امام حسن مجتبی علیہ السلام کی زوجہ جعدہ بنت اشعش سے یزید کے ساتہ شادی کرانے کے وعدہ پر امام کو شہید کرایا گیا ۔
آيت الله شفيعي


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق ایران کے صوبہ خوزستان کے بزرگ عالم دین آیت الله سید علی شفیعی نے امام حسن مجتبی علیہ السلام کے روز ولادت کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں سب سے پہلے حاضرین کی خدمت میں امام علیہ السلام کی پر نور ولادت کی مبارک باد پیش کی اور امام علیہ السلام کی حیات طیبہ کو تین حصہ میں تقسیم کرتے ہوئے اظہار کیا : امام حسن مجتبی علیہ السلام کی زندگی کا ابتدائی حصہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات طیبہ کے دوران تھا کہ جس کی مدت آٹہ سال رہی ہے ۔

ایران کے صوبہ خوزستان میں اعلی سطح کے بزرگ عالم دین نے اس بیان کے ساتہ کہ امام حسن مجتبی علیہ السلام اپنی زندگی کے 30 سال اپنے والد بزرگ حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام کے ساتہ بسر کی بیان کیا : حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام حسن مجتبی علیہ السلام کی زندگی کا تیسرا دور شروع ہوتا ہے وہ زمانہ جس میں امام حسن علیہ السلام کے امامت کا زمانہ ہے جو دس سال کی مدت ہے ۔

آیت الله شفیعی نے اہل سنت کے درمیان امام حسن مجتبی علیہ السلام کی مقبولیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : اس طرف خاص توجہ دینی چاہیئے کہ اہل سنت کے نذدیک روایت نقل کرنے کے شرائط میں ایک شرط راوی کا بالغ ہونا بھی ہے اس کے بووجود کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات طیبہ کے زمانہ میں امام حسن مجتبی علیہ السلام کی عمر آٹہ سال کی تھی لیکن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیثیں امام حسن علیہ السلام سے نقل کی گئی ہیں اور ان روایت کو قبول بھی کیا گیا ہے ۔

اس بزرگ عالم دین نے امام حسن مجتبی علیہ السلام کی بردباری و نیکی کو ان کی ایک نمایا خصوصیتوں میں سے جانا ہے اور بیان کیا : تاریخ میں بیان ہوا ہے کہ بعض مواقع پر امام حسن مجتبی علیہ السلام اپنے گھر کے دروازہ پر بیٹھ جایا کرتے تھے اور قرآن کی تلاوت فرماتے تھے ، ان کی خوش لحن آواز اور اچھی صوت ہونے کی وجہ سے لوگ ان کے گرد حلقہ بنا لیتے تھے ۔

خوزستان صوبہ کے حوزہ علمیہ میں اعلی سطح کے استاد نے امام حسن مجتبی علیہ السلام سے ایک روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : امام حسن مجتبی علیہ السلام لوگوں کو قیامت اور آخرت کے روز کو یاد دلاتے تھے اور فرماتے تھے « موت وہ قرض ہے جب تک تم سے اپنا قرض واپس نہیں لے لیگا آپ کو نہیں بخشے گا اس لئے قیامت کے روز کی فکر کریں » ۔

آیت الله شفیعی نے اس بیان کے ساتہ کہ ہم لوگ اہل بیت علیہم السلام کی کامل طور سے شناخت کی قدرت نہیں رکھتے اور ہم لوگوں میں ان کی قدر شناسی بھی نہیں پائی جاتی اظہار کیا : ہم لوگوں کو ایک مومن ہونے کے عنوان سے اپنے اور اپنے خانوادہ کے اخلاق کو اہل بیت علیہم السلام کی طرف رہنمود کرنا چاہیئے ۔

صوبہ خوزستان کے بزرگ عالم دین نے امام حسن مجتبی علیہ السلام کو مظلوم جانا اور بیان کیا : امام حسن مجتبی علیہ السلام کی روایات اور ان کے بیانات کو بنی امیہ اور بنی عباس کے خلافت کے زمانہ میں تحریف کیا گیا تھا ۔

حوزہ علمیہ خوزستان میں اعلی سطح کے استاد نے اس بیان کے ساتہ کہ عباسی خلفاء نے امام حسن علیہ السلام سے اپنی ناراضگی و غصے کا بدلہ حدیث جعل کرا کے نکالتے تھے وضاحت کی : امام حسن مجتبی علیہ السلام کی زوجہ جعدہ بنت اشعش سے یزید کے ساتہ شادی کرانے کے وعدہ پر امام کو شہید کرایا گیا ۔

آیت الله شفیعی نے بیان کیا : جعدہ نے خود اقرار کیا کہ امام حسن مجتبی علیہ السلام میں پائی جانے والی کوئی بھی نیک و پسندیدہ صفات یزید میں نہیں پائی جاتی ہے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬