
رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم ایران کے مشہور و معروف استاد حضرت آیت الله جعفر سبحانی نے ماہ مبارک رمضان کے سلسلہ وار قرآن کی تفسیری درس جو مدرسہ حجتیہ کے مسجد میں منعقد ہوئی اس میں سورہ مبارکہ یاسین کی آیات «أَوَلَمْ یَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِمَّا عَمِلَتْ أَیْدِینَا أَنْعَاماً فَهُمْ لَهَا مَالِکُونَ»، «وَذَلَّلْنَاهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَکُوبُهُمْ وَمِنْهَا یَأْکُلُونَ» و «وَلَهُمْ فِیهَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ أَفَلَا یَشْکُرُونَ» کی تفسیر بیان کی ۔
حوزہ علمیہ قم میں فقہ خارج کے استاد نے سورہ مبارکہ یاسین کی تفسیر کرتے ہوئے اس سورہ کو قرآن مجید کا قلب کہا ہے اور بیان کیا : قرآن مجید نے خدا اور اس کی صفات کے سلسلہ میں اس کی (توحید) ، آخرت (قیامت) اور پیامبر اکرم (ص) اور ان کے معجزه (نبوت) کی گفت و گو کی ہے اور یہ سب سورہ یاسین کی تمام آیات ان امور کو بیان کر رہی ہیں ، لہذا اس سورہ کا شمار قرآن کے قلب میں ہوتا ہے ۔
حضرت آیت الله سبحانی نے اس سوال کو بیان کرتے ہوئے کہ خداوند عالم فرماتا ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے جانوروں کو پیدا کیا حالانکہ خداوند عالم ہاتہ نہیں رکھتا ، وضاحت کی : ہم لوگ اس مسئلہ میں سلفی اور وہابوں سے الگ ہیں ، وہ لوگ اس بات پر مصر ہیں کہ خداوند عالم کے پاس وہی ہاتہ ہے جو «ایدی» کے معنی میں ہے اور خدا ہاتہ رکھتا ہے اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی کفیت کا علم نہیں ہے اور اپنی تمام عقیدتی کتابوں کو « ید معلومٌ و کیفیتٌ مجهوله » سے پر کر رکھا ہے ۔
انہوں نے وضاحت کی : شیعہ کہتے ہیں کہ «ایدی» کا معنی ہاتہ ہے لیکن یہ اشارہ و کنایہ کے طور استعمال ہوا ہے یہ عنایت کا مفہوم بیان کرتا ہے ، اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایک اچھے بچے کا تعارف لوگوں سے کرایا جائے تو آپ کہتے ہیں کہ میں نے خود اپنے ہاتھوں سے اس بچے کی تربیت کی ہے حالانکہ انسان اپنے ہاتھوں سے بچے کی تربیت نہیں کرتا ہے بلکہ اخلاق و عمل کے ذریعہ اس کی تربیت کرتا ہے اور یہاں اس کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میں نے اپنی عنایت کے ذریعہ اس کی پرورش کی ہے ۔
مرجع تقلید نے اس بات کی تاکید کی ہے : ہمارے اور وہابیوں میں فرق اتنا ہے کہ وہ لوگ مجسمہ ہیں مگر مجسمہ نام کی نسبت اپنی طرف نہیں دیتے ہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں خدا ہاتہ رکھتا ہے لیکن اس کی کیفیت کا علم نہیں ہے ؛ اگر اس ہاتہ کی کیفیت کا علم بھی ہو چاہے وہ اس کیفیت سے جدا ہی کیوں نہ ہو پھر بھی وہ جسم میں شمار ہوگا ، لیکن ہم لوگ اس سے منزہ ہیں اور خدا کو ہر طرح کی جسم و جسمانیت سے دور جانتے ہوں ۔