‫‫کیٹیگری‬ :
06 August 2013 - 14:52
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5768
فونت
آیت‌الله مصباح یزدی :
رسا نیوز ایجنسی ـ حوزہ علمیہ قم میں اخلاق کے استاد نے حق و باطل کی پہچان کا معیار خدا کی رضایت جانا ہے اور کہا : کسی بھی قول کے حق و باطل ہونے کا معیار عوام کی اکثریت نہیں ہوتا ہے ، عقل اور شرع دو بنیادی اسباب خدا کی رضایت کو پہچاننے کی دلیل ہیں ۔
آيت‌الله مصباح يزدي


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم ایران کے مشہور و معروف استاد آیت ‌الله محمد تقی مصباح یزدی نے قائد انقلاب اسلامی کے قم آفس کے (حضرت امام خمینی رہ حسینیہ) میں منعقدہ اپنے درس اخلاق میں سماجی زندگی کی طرف توجہ دیتے ہوئے فرمایا : امام صادق علیہ السلام کی ایک روایت کے مطابق کہ انسان کبھی بھی ایسی زندگی بسر نہیں کر سکتا کہ تمام لوگ اس سے راضی و خوش ہوں اس میں صرف منافق ہیں جو کہ ہر شخص کی خواہش کے مطابق اپنے اعمال انجام دیتا ہے تا کہ سبھوں کی رضایت حاصل کرے ۔

امید نہیں رکھی جا سکتی کہ انسان دوسروں کی تنقید سے محفوظ رہے

انہوں نے وضاحت کی : ایسا نہیں ہوا ہے کہ خدا کے تمام پیغمبروں کو دوسروں کی طرف کی جانے والی تنقید سے امان ملا ہو یا اس اذیت کا سامنا نہ کرنا پرا ہو اور اس مشکلات کو برداشت نہ کیا ہو اسی وجہ سے امید نہیں کی جا سکتی کہ دوسروں کی تنقید سے دور رہیں ۔

حوزہ علمیہ قم میں اخلاق کے استاد نے مکہ کے مشرکوں کی طرف سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر لگائے گئے الزمات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : ان لوگوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک شاعر شخص کا نام دیا کہ جس کی باتیں بغیر کسی بنیاد و اساس کے ہوا کرتی ہے اس کے بعد ان کو مجنو کہا گیا یہ تمام امور اس بات کی علامت ہے کہ انسان دوسروں کی تنقید سے کبھی بھی خود کو نہیں بچا سکتا ۔

انہوں نے امام حسن علیہ السلام سے حضرت علی علیہ السلام کی شفارشات کی طرف توجہ کراتے ہوئے اظہار کیا : انہوں نے فرمایا اگر تم دانشمند ہوئے تو دوسرے تمہاری غلطی کے تاک میں رہے نگے اور تم پر اشکال کرینگے اور اگر علم کی جستجو میں رہوگے اور علم کی جزئیات کی جانب غور و فکر کروگے تو لوگ کہینگے کہ یہ بے فائدہ کام انجام دیا جا رہا ہے ؛ پوری تاریخ میں نگاہ کی جائے تو بعض علماء جنہوں نے بہت ہی باریکی سے کسی بھی مسئلہ میں غور و فکر کیا ہے ان کا مسلسل مزاق اڑایا گیا ہے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬