‫‫کیٹیگری‬ :
04 September 2013 - 15:28
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5879
فونت
رہبر معظم نے بائیسویں اجلاس نماز کے نام پیغام میں؛
رسا نیوزایجنسی - رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران نے بائیسویں اجلاس نماز کے نام ارسال کردہ پیغام میں تاکید کی : نماز کو بہترادا کرنا اور لوگوں کو رغبت دلانا مومنین کا اولین وظیفہ ہے ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامي


رسا نیوز ایجنسی کی رھبر معظم انقلاب اسلامی کی خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے نماز کے بائیسویں اجلاس کے نام اپنے پیغام میں  نماز کی عام ترویج و تبلیغ اور نماز کو باکیفیت ادا کرنے  اور اسے عام طور پر فروغ دینے کو مؤمنین کی سرفہرست اور اہم ذمہ داری قراردیتے ہوئے فرمایا: نماز کی ترویج و تبلیغ کے سلسلے میں ذرائع ابلاغ ، اہل منبر افراد ، صاحبان فکر اور ذمہ دار اداروں کو اپنی ذمہ داری حسن و خوبی کے ساتھ ادا کرنی چاہیے۔

 

رہبر معظم کے پیغام کو صوبہ لرستان میں ولی فقیہ کے نمائندے حجۃ الاسلام والمسلمین میر عمادی نے نماز کے بائیسویں اجلاس میں پیش کیا ۔


اس پیغام کا تفصیلی متن حسب ذیل ہے:

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

قرآن مجید نے قدرتمند اور متمکن مؤمنین کی تعریف وتوصیف اور ان کے سرفہرست وظائف میں  نماز کا نام لیا ہے: الذین ان مکنّاهم فی الارض اقاموا الصلاة...

 

شخصی اور ذاتی  ذمہ داری میں نماز کی کیفیت پر توجہ مبذول کرنی جاہیے اور سماجی تلاش و کوشش میں نماز کی عام سطح پر تبلیغ و ترویج کے سلسلے میں تلاش و کوششکرنی چاہیے۔

 

نماز کی کیفیت سے مراد یہ ہے کہ نماز کو خضوع و خشوع  اور حضور قلب کے ساتھ ادا کرنا چاہیے ؛ نمازی کو نماز ادا کرتے وقت خدا  کے ساتھ ملاقات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے کہ وہ نماز میں اللہ تعالی کے ساتھ بات کررہا ہے اور وہ اللہ تعالی کے سامنے کھڑا ہے اور جب تک ممکن ہوسکے نماز کو مسجد میں اور جماعت کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔

 

نماز کی ترویج ، اہمیت اور اس کو عام سطح تک پہنچانے اور اس کی تبلیغ و ترویج کے سلسلے میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

 

صاحبان فکر کو اپنے بیان،زبان اور تحریر : ذرائع ابلاغ اور اہل منبر کو اپنےجذاب  ہنر ؛ اور تمام اداروں کو اپنی وسع کے مطابق نماز کے سلسلے میں اپنی عظیم ذمہ داری کو ادا کرنا چاہیے۔

 

چھوٹے و بڑے شہروں اور دیہاتوں میں مساجد کی کمی، کھیل کے اسٹڈیموں، بوستانوں، اسٹیشنوں  اور دیگرسماجی جگہوں جیسے مراکز میں نماز کی جگہ کی قلت، حمل و نقل کے وسائل میں نماز کے وقت کی عدم رعایت، درسی کتب میں نماز کی اہمیت پر عدم توجہ، مساجد میں صحت اور پاکیزگی کے امور پر عدم توجہ، امام اور مامومین کے درمیان رابطہ پر عدم توجہ اور ان جیسی دیگر خامیاں ایسے کمزور نقاط ہیں جن کو ہمت اور تلاش و کوشش کے ذریعہ دور کرنے کی ضرورت ہے اور نماز برپا کرنا متمکن افراد کے ایمان کی علامت ہے جسے ہمارے اسلامی معاشرے میں روزبروز نمایاں تر ہونا چاہئے، انشاء اللہ ۔

 

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ


سید علی خامنہ ای

 

2 ستمبر 2013 ء

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬