21 October 2013 - 16:21
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6066
فونت
رسا نیوز ایجنسی - حج کی عبادات کم و بیش چارہزارسالوں سے جاری ہے ، تواترکے ساتھ ادا ہونے والی یہ دنیا کی قدیم ترین عبادت ہے، قریش مکہ نے ان عبادات ومناسک میں بدعات اور شرک کی آمیزش بھی کردی تھی لیکن خاتم النبیین نے اسے ایک بار پھر سنت ابراہیم علیہ السلام کے مطابق ترتیب دے کر ہر طرح کی آلائشوں سے پاک صاف کر دیا، اب عمربھر میں ایک بار اس شخص پر سفرحج فرض کردیا گیا ہے جو اسکی استطاعت رکھتا ہو، تب سے آج تک امت مسلمہ نے ایک حج بھی قضا نہیں کیا حالانکہ ایک زمانے میں حج کرنا جان جوکھوں کا کام ہوتا تھا ۔
فريضہ حج


ڈاکٹر ساجد خاکوانی


ادائیگی حج کے اگرچہ بہت سے پہلو ہیں جن میں ایک سیاسی پہلو ہے کہ تمام مسلمانوں کا نمائندہ اجتماع امت کی سیاسی قوت کا آئینہ دارہو،ایک معاشرتی پہلو ہے کہ مشرق و مغرب کے مسلمان باہم معاشرتی اختلاط سے ایک اسلامی معاشرت کے امین بنیں،ایک مذہبی پہلو ہے کہ لمبے سفر کے بعد قرب الہی کا وسیلہ زیادہ خلوص اور محبت کے ساتھ میسر آئی،ایک سیاحتی پہلو ہے کہ قریہ قریہ شہر شہر سے گزرنے کے باعث ایک حاجی اﷲ تعالی کی زمین اور انسانی تہذیب و ثقافت کا مشاہدہ کرتا چلی،ایک دفاعی پہلو ہے امت کا اتنا بڑا اجتماع اورمسلمانوں کے اتحاد سے دشمنوں پر دھاک بیٹھ جائے،ایک مساوات کا پہلو ہے کہ امیر، غریب، عالم جاہل، گورے کالے ،عربی عجمی اورشرقی غربی کل حجاج ایک ہی قسم کے کپڑوں میں ایک ہی رخ میں ایک ہی کلمہ زبان سے نکالتے ہوئے چلے جا رہے ہیں اورایک بین الاقوامی پہلو ہے کہ ہرنسل، ہررنگ، ہرزبان اور ہر علاقے کی نمائندگی موجود ہے۔


ہم وقت کے اس دھارے سے گزر رہے ہیں کہ صدہائے افسوس کہ حج جیسی عظیم الشان عبادت کے یہ تمام پہلومعطل ہیں اور امت اپنی تاریخ کے بہت ہی سیاہ دور سے گزر رہی ہے،  ممکن ہے ماضی میں بھی کبھی ایسا ہوا ہو یا شاید مسقبل میں بھی ایسا پھر ہوجائے لیکن حج کا معاشی پہلو کبھی بھی معطل نہ ہوگا، جب تک حج کا عمل جاری رہے گا لاکھوں نہیں کروڑ ہا لوگوں کا روزگار اس عبادت سے وابستہ رہے گا۔


ان لوگوں میں امیروغریب تو ہونگے ہی لیکن کتنی حیرانی کی بات ہے کہ انبیاء علیھم السلام کی جاری کی ہوئی اس عبادت کے معاشی پہلو میں غیرمسلم بھی برابر کے بلکہ بعض اوقات مسلمانوں سے زیادہ کے شریک رہیں گی۔ ایک حاجی جب حج کا ارادہ کرلیتا ہے تو لوگ اسے مبارک باد دینے آتے ہیں ، ہر آنے والا پھول ساتھ لاتا ہے اور اس طرح پھولوں والوں کا روزگار کھل جاتا ہے۔ حج کی پیشگی مبارگ دینے والی اکثریت مٹھائی یا کوئی تحفہ یا ہدیہ بھی ساتھ لاتی ہے اس طرح ان لوگوں کا روزگار کھلتا ہے جہاں سے یہ مٹھائی یا تحفہ و ہدیہ خریدا جاتاہے۔ دیہاتوں میں بعض اوقات تین تین دن پہلے چوہدری صاحب کے ہاں دیگیں پکنے لگتی ہیں کیونکہ وہ حج پر جا رہے ہوتے ہیں اس طرح دیگوں اور راشن سے وابسطہ لوگوں کا روزگار کھل جاتا ہے اور برادری اور غریب غربے تین دنوں تک چوہدری صاحب کے ہاں سے اچھا کھانا بھی کھالیتے ہیں۔


حج کے لیے حاجی صاحب اکیلے نہیں جاتے بلکہ پورا گاؤں انہیں بسوں پر بٹھاکر شہر تک چھوڑ کر آتا ہے اس دوران ڈھول والے ،  نعتیں پڑھنے والے ، بسوں کے ڈرائیوراور پٹاخے بجانے والوں کی بھی چاندی ہوتی ہے قطع نظر اس بات کے کہ یہ امور جائز ہیں کہ ناجائز۔


شہر پہنچ کریا پہلے سے ہی حاجی صاحب نے کسی ہوائی کمپنی کاٹکٹ خریدناہے۔ ہوائی کمپنیوں کی اکثریت غیر مسلموں کی ملکیت ہوتی ہے لیکن کتنی حیرانی کی بات ہے کہ حج اور عمرے کا سیزن پوری دنیا کی ہوائی کمپنیوں کے لیے خوب کمائی کا سیزن ہوتا ہے۔ بعض ادارے تو صرف حج اور عمرے کا ہی کام کرتے ہیں اور پھر بھی لوگوں کو ان سے شکایت رہتی ہے سیٹ نہیں مل سکی۔ ان ہوائی کمپنیوں سے بلا مبالغہ کروڑہا لوگوں کی ہنڈیا وابستہ ہوتی ہے اورانکے کاروبار کا بہت بڑا اور بڑا واضع حصہ سفرسعادت سے ہی منسلک ہوتا ہے۔


ان ہوائی کمپنیوں کے ایجنٹ اور پھر انکے ثانوی ایجنٹ دوردرازکی بستیوں میں اپنے دفاتر کھول کر بیٹھتے ہیں اور ایک حاجی جو اپنی رقم سے ٹکٹ خریدتا ہے نہ معلوم اس ایک ٹکٹ کی رقم کتنی کتنی جگہوں پر تقسیم در تقسیم ہو کرتوپہنچتی ہے اور لوگوں کے کاروبارکاباعث بنتی ہے۔


حاجی اپنی منزل پر پہنچ گیا۔ حج و عمرے کے انتظامات پر کتنی رقم خرچ ہوتی ہے ؟ اسکا اندازہ لگانا ہمارے لیے ممکن نہیں لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ ساراسال ہزاروں نہیں لاکھوں لوگوں کی ان گنت ٹیمیں حج و عمرے اور حرمین شریفین کے انتظامات میں مصروف عمل رہتی ہیں ۔ کم و بیش دنیا کے ہر خطے کا مسلمان ان مقامات پر کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ حاجیوں کے لیے صفائی اور قیام و طعام کے انتظامات سے لے کر حرمین شریفین کی توسیع تک بے شمار لوگوں کا روزگار وابستہ ہورہتاہے۔ سارا سارا سال اخباروں میں اشتہار چھپتے ہیں اور ساری دنیا سے ماہر لیبراور خام لیبر ہوائی جہازوں اور بحری جہازوںمیں بھر بھرکر حجازمقدس لے جائی جاتی ہے جہاں سے وہ اپنے ظرف کے مطابق سعادت اور اپنے فن کے مطابق دنیا کما کر لاتے ہیں۔


خاص حج کے موقع پر بھیڑ،بکریوں اور اونٹوں کے ریوڑ کے ریوڑمنی کے مقام پر لائے جاتے ہیں اور انہیں ذبح کیا جاتا ہے۔ ان جانوروں کے گلے بان اپنے سال بھرکی محنت کابہت معقول معاوضہ وصول لیتے ہیں اور اس طرح صحراکے باسی جہاں مہینوں تک زمین کی مٹی بارش کی بوند کوترس جاتی ہے، حج کی عبادت انکی وسعت رزق کاباعث بن جاتی ہے۔ پھر جوجانور حکومتی انتظام کے تحت ذبح کیے جاتے ہیں انکا گوشت دنیا کے مختلف علاقوں میں غرباء کو پہنچادیا جاتاہے اور یوں حج کی عبادت لوگوں کاپیٹ بھرنے کاباعث بن جاتی ہے۔


جاپان چین اور فرانس غیرمسلم ممالک ہیں ،ان سمیت دنیاکے بیشتر سیکولرممالک سے بحری جہازبھربھرکے حجازمقدس کی بندرگاہوں پر اترتے ہیں جن میں ٹوپیاں ،تسبیحیں، جائے نمازیں، کھلونی، مشینری اورکپڑے سمیت نہ جانے قسم قسم کی مصنوعات لدی ہوتی ہیں۔


ﷲ تعالی نے ایک شاندار انتظام کے تحت دنیابھر کے لاکھوں امیر لوگوں کو ایک جگہ جمع کردیاہے وہ دل کھول کر خریداری کرتے ہیں ،کوئی بھی حاجی خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا پس دنیا بھر کی بے شمار انڈسٹریزصرف حج کی بنیاد پر قائم و دائم ہیں اور ان میں کام کرنے والوں اور انکی چیزیں خرید کر آگے بیچنے والے اور ان سے خرید کر مزید آگے بیچنے والے اور پھر حاجیوں کے ہاتھ فروخت کرنے والے سب کے سب کا معاشی مسئلہ ﷲ تعالی نے حج و عمرے کی عبادات و مناسک سے جوڑ رکھاہے۔


حاجی حج سے واپس آتا ہے تو ایک بار پھر لوگ بسیں بھر بھر کے اسکے استقبال کے لیے ہوائی اڈوںیا ریلوے اسٹیشنوں پرپہنچتے ہیں،عام دنوں میں جولوگ منتیں کرکر کے دس دس روپے کے پھولوں کے ہار فروخت کرتے ہیں اب پچاس پچاس میں نخرے سے فروخت کرتے ہیں ،کارپاکنگ والوں کی دہاڑیاں دس دس گنا بڑھ جاتی ہیں ، بسوں اور ویگنوں والے حاجی کی خیریت سے واپسی کی مٹھائی بھی وصول کرتے ہیں ،گھر کے بچوں کے لیے کھلونی،خواتین کے لیے کپڑے اور نوجوانوں کے لیے انکے مزاج کی اشیااور پوری برادری،پڑوسیوں اور گاؤں والوں کے لیے تسبیح،ٹوپی،زم زم اور کھجور کے تحفے ارسال کیے جاتے ہیں۔
معاش انسان کی اولین ضرورت ہے وہ پیدا ہوتے ہی سب سے پہلے اپنی معاش کا تقاضا کرتا ہی، ﷲ تعالی کتنا بڑا رزاق ہے کہ اس نے اپنی نازل کی ہوئی شریعت میں تمام کفاروں کو بھوکے کے پیٹ سے جوڑ دیاہے، روزہ توڑا ہے تو بھوکے کا پیٹ بھرو، قسم توڑی ہے توبھوکے کاپیٹ بھرو، حج میں کوئی غلطی ہو گئی ہے تو بھوکے کاپیٹ بھرو، پھرغمی اور خوشی کے مواقع کو بھی ﷲ تعالی نے پیٹ سے جوڑ دیاہے،عقیقہ ، ولیمہ یا کسی کی وفات پر کھانے کا انتظام اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں، مرسل اعظم کی تمام تر پیشین گوئیاں بھی معاشی خوشحالی سے تعلق رکھتی ہیں اور صدقات و زکوۃ اور عشر کا اتنا بڑا نظام تو معاشیات سے ہی مستعارہے۔


اسی طرح حج جیسی محض ایک عبادت سے ﷲ تعالی پوری دنیا میں گردش دولت کا سلسلہ شروع کردیتا ہے، تجوریوں سے زرنکل کر مختلف ہاتھوں سے ہوتا ہوا بھوکے کے پیٹ تک جاپہنچتا ہے ، قطع نظر اس کے کہ وہ بھوکا امیرہے کہ غریب ہے، اَن پڑھ ہے کہ جاہل ہے اور حتی کہ مسلمان ہے کہ غیرمسلم۔ اور پھر اس حج پر خرچ کی ہوئی رقم حاجی کے اپنے رزق میں کتنی برکت کا باعث بنتی ہی؟ دنیا کا کوئی پیمانہ اسکی پیمائش کرنے سے قاصر ہے۔ سچ ہے کہ ﷲ کی راہ میں خرچ کرنا ایسا ہے جیسے ’’ایک دانہ بویا جائے جو سات بالیوں کی زراعت کا باعث ہو ہر ہربالی میں سوسودانے ہوں‘‘۔ یہ تو دنیا کا حال ہے، آخرت میں اسکا کتنا اجر ملے گا؟ ﷲ تعالی ہی بہتر جانتا ہے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬