‫‫کیٹیگری‬ :
31 December 2014 - 12:32
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7634
فونت
آیت ‌الله جوادی آملی کی وزارت خارجہ کے ذمہ داروں سے ملاقات:
رسا نیوز ایجنسی - حضرت آیت‌ الله جوادی آملی نے کہا: دیگر ممالک سے رابطہ میں دوسروں کے حقوق کو محترم شمار کریں مگر اپنے اقداروں سے ھرگز پیچھے نہ ہٹیں، ہم اگر عاقلانہ زندگی بسر کریں اور غیر مستدل باتوں کے بیان سے پرھیز کریں تو عالمی رابطے میں بہتری کے شاھد ہوں گے ۔
آيت ‌الله جوادي آملي


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وزارت خارجہ کے ذمہ داروں اور ملازمین نے حضرت آیت الله جوادی آملی سے ملاقات کی اور عالمی میدانوں میں تعلقات کے حوالہ سے آپ سے سوال و جواب کیا ۔


حضرت آیت الله جوادی آملی نے اس ملاقات کی ابتداء میں دیگر ممالک سے تعلقات کے سلسلے میں اسلامی قوانین و احکامات کی جانب اشارہ کیا اور کہا: اسلام نے مسلمانوں کو تین طرح کے اہم احکامات دئے ہیں ، ایک اسلامی دنیا اور مسلمانوں سے متعلق ، دوسرے مسلمانوں کے غیر مسلمانوں سے دین کے دائرہ میں تعلقات اور تیسرے انسانیت کے حوالے سے پوری دنیا سے تعلقات ۔


انہوں نے یاد دہانی کی: دین کی دنیا میں دو اہم جزء تعلقات کا محور ہیں ایک عقل اور دوسرے عدل و انصاف، یعنی احساسات و جزبات کی دنیا میں عادلانہ رفتار کریں اور افکار کی دنیا میں عاقلانہ کردار اپنائیں ۔  


قرآن کریم کے اس معروف استاد نے تاکید کی: دیگر ممالک سے رابطہ میں دوسروں کے حقوق کو محترم شمار کریں مگر اپنے اقداروں سے ھرگز پیچھے نہ ہٹیں، ہم اگر عاقلانہ زندگی بسر کریں اور غیر مستدل باتوں کے بیان سے پرھیز کریں تو عالمی رابطے میں بہتری کے شاھد ہوں گے ۔


حضرت آیت الله جوادی آملی نے انسانی حقوق اور دھشت گردی سے مقابلے میں مغربی دنیا کی دوگانہ پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا: مغرب ںظم یافتہ چڑیا گھر ہے، مغربی اس علمی ترقی کے باوجود اگر مریخ پر بھی قابض ہوجائیں تو وہاں بھی عالمی جنگ چھیڑ دیں گے ۔


انہوں نے مزید کہا: وزارت خارجہ کے ملازمین اور ذمہ داران آگاہ رہیں کہ ایران عالمی میدان میں، دیگر مغربی ممالک کی بہ نسبت جن کے ہاتھ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کی جنایتوں نیز عراق و افغانستان و دیگر ممالک کی چڑھائی میں آلودہ ہیں، خدا کے لطف و کرم سے ان سے بالاتر و سرفراز ہے
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬