24 July 2016 - 07:38
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 422543
فونت
افغانستان میں مظاہرے کے دوران بم دھماکہ؛
افغانستان کی وزارت داخلہ کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق کابل میں ہزارہ برادری کے مظاہرے کے دوران ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں اب تک اسّی افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
کابل


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں مظاہرہ کرنے والوں پر داعش دہشت گردوں کے دو خودکش حملوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد ۸۰ تک پہنچ گئی ہے اس خونی حملے میں ۲۳۰ سے زائد افراد زخمی  بھی ہوگئے ہیں تاہم ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق تیسرے  دہشت گرد حملہ آور کی خود کش جیکٹ پھٹ نہ سکی، جسے سکیورٹی اہلکاروں نے ہلاک کردیا۔

افغانستان دارالحکومت کابل میں ایک ساتھ دو خود کش حملے اس وقت ہوئے، جب سینکڑوں مظاہرین ٹرانسمیشن لائن منصوبے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔

افغان حکام کا کہنا : تین خود کش حملہ آور احتجاجی مظاہرے میں موجود تھے، ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑایا، دوسرے خود کش حملہ آور کی جیکٹ پھٹ نہ سکی اور ایک خودکش حملہ آور افغان سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مارا گیا۔ خودکش حملہ آور نے برقع پہنا ہوا تھا ۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کابل میں ہونے والے خود کش حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ملک بھر میں اتوار کو ایک روز کے عام سوگ کا اعلان کیا ہے اور کہا : دہشت گردوں نے شہریوں کے اجتماع کو نشانہ بنایا، دھماکے کا شکار ہونے والوں میں سکیورٹی اہلکاربھی شامل ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ دو خودکش حملہ آوروں نے کابل میں روشنی تحریک کے نام سے ہزارہ برادری کے مظاہرے کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

مظاہرین پر خودکش حملے کی ذمہ داری وہابی دہشت گرد اور کالعدم تنظیم داعش نے قبول کر لی ہے جبکہ طالبان نے حملے سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬