25 July 2016 - 20:04
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 422547
فونت
حزب اللہ کی مجلس عاملہ کے نائب صدر:
حزب اللہ کی مجلس عاملہ کے نائب صدر نے کہا : حزب اللہ نے اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات کی برقراری کے عمل کو حرمین شریفین کے ساتھ غداری کے مترادف قرار دیا ہے۔
شیخ نبیل قاووق


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان کی مجلس عاملہ کے نائب صدر شیخ نبیل قاووق نے لبنان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام کا دشمن صیہونی کے ساتھ سعودی عرب کے تعقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : سعودی عرب کی طرف سے صیہونی اسلام دشمن ملک کے ساتھ روابط کو بہتر کرنے کا فیصلہ غیر عاقلانہ ہے اور آل سعود کے یہ اقدام فلسطین، قدس اور حرمین شریفین کے ساتھ غداری اور ظلم ہے۔

حزب اللہ کی مجلس عاملہ کے نائب صدر نے کہا : اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے سعودی عرب کا صیہونی حکام کے ساتھ مسلسل رابطوں اور میٹنگوں کو فلسطین، قدس اور حرمین شریفین کے خلاف اقدام جانا ہے۔ اور عرب سربراہی اجلاس میں سعودی عرب کی مذمت کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : سعودی حکومت نے اسرائیل کا ساتھ دینے کی پالیسی اور دشمن سے مذاکرات کر کے اسلام اور عربیت کو نشانہ بنایا ہے۔

شیخ نبیل قاووق نے خبردار کرتے ہوئے بیان کیا : اسرائیل کا ساتھ دینے سےعرب امہ کا پرچار کرنے والوں کو ذلت اور رسوائی کے سوا اور کچھ نصیب نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا : جولائی سنہ دو ہزار چھہ میں حزب اللہ کو ملنے والی کامیابی نے عرب امہ کی سوچ کوعزت و سربلندی سے ہمکنار کیا۔

وہیں لبنان کی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے حامی جماعت کے سربراہ محمد رعد نے علاقہ کے عرب حکمرانوں کی طرف سے صیہونی حکومت کے ساتھ ہرقسم کے رابطوں کو انتہائی شرمناک قرادیا۔

انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا : حکمراں اربوں ڈالر کی خطیر رقم اور ہتھیار علاقے کے ملکوں میں موجود استقامتی فورسز کو کمزور اوران کا محاصرہ کرنے کے لئےاستعمال کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی طرف سے مسلسل وفد اسرائیل کے دورہ میں مشغول ہے یہاں تک کہ سعودی ولی عہد اور وزراء بھی اسرائیل کے دورہ میں کمی نہیں کر رہے ہیں تا کہ آل یھود سعود اسرائیل کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر ظلم کرنے میں امتیازی درجہ حاصل کریں ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬