21 August 2016 - 16:44
News ID: 422745
فونت
ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا :
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا : ہمیں کمزور نہ سمجہا جائے، ہم قانون کا احترام کرتے ہیں، صبر کا دامن چہوٹ گیا تو نتائج کے ذمہ دار حکمران ہوں گے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے لاہور میں تحریک قصاص کے احتجاجی دھرنے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں کہا : شہدائے ماڈل ٹاؤن کے خون کا قصاص لے کر دم لیں گے، ہم چاہیں تو ۷ دن میں خون کا حساب لے سکتے ہیں، لیکن ہم قانون کا راستہ اختیار کریں گے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : آج کا احتجاج حکمرانوں کیخلاف عوام کا ریفرنڈم ہے، حکمران دیکھ لیں کہ لوگ ان سے کتنی نفرت کرتے ہیں۔

طاہرالقادری نے کہا : سانحہ ماڈل ٹاؤن پر ہمارا مقدمہ درج ہوا اور نہ ہی غیر جانبدار جے آئی ٹی قائم کی گئی، آج پاکستان کے ۱۰۵ شہروں میں قصاص ریلیاں انصاف کے دروازے پر دستک ہیں، میری ایک کال پر پورا ملک حکمرانوں کیخلاف سڑکوں پر نکل آیا ہے۔

انہوں نے کہا : آج کا احتجاج ۲۰ کروڑ لوگوں کی آواز ہے، ہم انصاف کے سوا کچھ نہیں مانگتے، پنجاب سے دہشتگردی کا خاتمہ نہ ہوا تو آپریشن ضرب عضب کے نتائج نہیں ملیں گے، وزیرستان میں دہشتگردی کا خاتمہ ہوا، پنجاب میں کب ہوگا؟ ۔

طاہرالقادری نے کہا : ہمیں کمزور نہ سمجہا جائے، ہم قانون کا احترام کرتے ہیں، صبر کا دامن چہوٹ گیا تو نتائج کے ذمہ دار حکمران ہوں گے۔

انہوں نے کہا : حکمران قصاص سے بچنے کیلئے قانون میں ترمیم کر رہے ہیں، نواز شریف کا وجود ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ میری عدم موجودگی میں کارکن زیادہ مضبوط ہیں، بھارتی معاملات پر وزیراعظم کی زبان کیوں گنگ ہو جاتی ہے، جاسوس پکڑا گیا پھر بھی وزیراعظم خاموش ہیں، نواز شریف کی حکومت ختم ہونے جاتی ہے تو ملک میں دھماکے شروع ہو جاتے ہیں، آخر اندرونی دشمنوں کا بیرونی دشمنوں کیساتہ کیا تعلق ہے۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا : میں حکمرانوں کی انتہا دیکھنا چاہتا ہوں، عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کرپٹ حکمرانوں کو رکھیں یا پاکستان کو، ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا : پاک فوج نے دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑنے کا حق ادا کر دیا ہے، فوج کے علاوہ کسی بہی دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کردار ادا نہیں کیا، پوری دنیا میں کوئی ایسا آپریشن نہیں کرسکی جو پاک فوج نے کیا ہے۔

طاہرالقادری نے کہا : آل شریف نے دہشتگردی کیخلاف ایک قدم بھی نہیں اٹھایا، حکمران میرے سوال کا جواب دیں کہ نیشنل ایکشن پلان بنانے کے بعد کتنے اجلاس بلائے، حکمرانوں کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا : میں آرمی چیف سے کہتا ہوں جب تک دہشتگردی اور کرپشن موجود ہے نیشنل ایکشن پلان پر عمل جاری رکھا جائے، جب تک دہشتگردوں کے سرپرست حکومت میں موجود ہیں، ضرب عضب جاری رکھا جائے۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا : حکمرانوں نے اغوا کاروں سے کٹھ جوڑ کر رکھا ہے، اغوا ہونیوالے پہلے فیصل آباد جاتے ہیں، وہاں سے آگے لے جایا جاتا ہے، حکمران بتائیں اغوا کاروں کو فیصل آباد کون لے جاتا ہے۔

انہوں نے کہا : پنجاب دہشتگردی کا نظریاتی گڑہ بن چکا ہے، وزیراعظم کی فیکٹریوں سے جاسوس پکڑے جاتے ہیں، حکومت نے نیشنل ایکشن پلان بھی ناکام کرنے کی کوشش کی، لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا : میرے کارکن شیر ہیں، مصطفوی کارکن ہیں، ان کا دنیا کی کوئی طاقت مقابلہ نہیں کرسکتی۔

طاہرالقادری نے کہا : حکمرانوں نے الیکشن کمیشن سے لے کر پٹواریوں اور پولنگ عملے کو خریدا ہوا ہے، قائداعظم اور علامہ اقبال اگر زندہ ہو کر آجائیں تو ان حکمرانوں سے یونین کونسل کا الیکشن بھی نہیں جیت سکیں گے۔

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬