28 August 2016 - 20:08
News ID: 422884
فونت
حریت کانفرنس کشمیر:
حریت کانفرنس (گ) نے اپنے بیان میں کہا : اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی برقرار رہی تو اس سے نہ صرف بھارت بلکہ پورے برصغیر ایشیاء پر خطرات کے بادل منڈلاتے رہیں گے۔
حریت کانفرنس

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) نے بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی طرف سے سرینگر میں دی گئی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا : بھارتی حکمران ہمیشہ سے ہی کشمیر میں جاری تحریکِ حقِ خودارادیت کو تسلیم کرنے کے بجائے صرف اور صرف طاقت کے زور پر اسے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔

اس رپورٹ میں وضاحت کی گی : کیونکہ کشمیری قوم نے کبھی بھی بھارت کے جبری قبضے کو قبول نہیں کیا ہے اور وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں کشمیر کے مسئلہ کا مستقل حل چاہتے ہیں، جس کو بھارتی حکمرانوں نے بھی تسلیم کیا ہے۔

حریت کانفرنس (گ) نے واضح کردیا ہے : اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی برقرار رہی تو اس سے نہ صرف بھارت بلکہ پورے برصغیر ایشیاء پر خطرات کے بادل منڈلاتے رہیں گے۔ بھارت جسے ایک طرف غربت، مذہبی منافرت اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ ناخوشگوار تعلقات نے تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے، وہیں جموں کشمیر کی تحریک آزادی کو ظلم و جبر اور طاقت سے دبانے کے نتیجے میں اس کا اپنا شیرازہ بکھرنے کا قوی امکان ہے۔

حریت کانفرنس (گ) نے راجناتھ سنگھ کی اس بات کہ ’’کچھ لوگ نوجوانوں کو گمراہ کررہے ہیں‘‘ کو بے شرمی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا : یہ بھارت کی روایتی ضد اور ہٹ دھرمی ہے جس کے ذریعے وہ کشمیر میں جاری حقِ خودارادیت کی تحریک کو غلط رنگ میں پیش کرکے دنیا کے گمراہ کرنا چاہتا ہے۔

حریت کانفرنس نے واضح کردیا ہے : جموں کشمیر کے مرد، خواتین، نوجوان، بچے اور بزرگ آج کل اپنے اسی پیدائشی حق کے لیے شعوری طور سڑکوں پر آگئے ہیں، جس طرح وہ پچھلی ۷ دہائیوں سے کرتے آئے ہیں۔

اس بیان میں کہا گیا : ہمارے باغیرت نوجوان اپنی جدوجہد کے حوالے سے کسی غلط فہمی کے شکار نہیں ہیں، بلکہ وہ باشعور بھی ہیں اور بالغ نظر بھی۔ اُن کو اپنے مستقبل کے بارے میں کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے، خاص کر اُن لوگوں کے جن کے ہاتھ اُن کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : جو انہیں بینائی سے محروم کرتے ہیں، جو اُن کی ماؤں اور بہنوں کی عزتوں اور عصمتوں سے کھیلتے ہیں، جو انہیں عمر بھر کے لیے ناکارہ بنارہے ہیں۔ جنہوں نے اُن کی پوری آبادی کو محصور کرکے انہیں تڑپنے پر مجبور کیا ہے، ہمارے ان جیالے جوانوں کو بخوبی علم ہے کہ ہمارا مستقبل تب تک محفوظ اور تابناک ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے، جب تک جموں کشمیر کی سرزمین پر بھارت کا ایک بھی سپاہی موجود ہے۔

پیلٹ گنوں کا متبادل تلاش کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے حریت کانفرنس (گ) نے کہا : اتنی عظیم اور بےمثال قربانیوں کے باوجود قاتل سرکار کے کارندے قتل کے آلات تبدیل کرنے پر غور کررہے ہیں۔

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬