07 September 2016 - 21:33
News ID: 423097
فونت
سعودی عرب سے منسلک وہابی دہشت گردوں کو ۲۰۰ سے زائد علماء اہلسنت نے بھی اہلسنت سے خارج کردیا ہے ۔
داعش

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں خونخوار وہابی دہشت گرد تنظیم داعش کی حمایت کرنے پر وہابی مبلغ انجم چوہدری اور ان کے ساتھی کو ساڑھے۵ سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

انجم چوہدری نے وہابی دہشت گرد تنظیم داعش سے وفاداری کا آن لائن حلف اٹھایا تھا اور سیکڑوں برطانوی مسلمانوں کو داعش میں بھرتی کرنے کا اقدام کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق عالمی دہشت گرد تنظیم داعش سے وفاداری کا آن لائن حلف اٹھانے والے ۴۹  سالہ انجم چوہدری کو لندن کے اولڈ بیلی کی عدالت نے مجرم قرار دیتے ہوئے ساڑھے ۵ سال قید کی سزا سنا دی ہے، لندن پولیس کا کہنا ہے کہ  انجم چوہدری  کے طرفداروں نے برطانیہ اور دوسرے ملکوں میں حملے کیے ہیں۔

جج نے انجم چوہدری کو خطرناک  اقدام کرنے والا مجرم قرار دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ عدالت نے ان کے ساتھی میزان الرحمن کو بھی ساڑھے پانچ برس قید کی سزائی سنائی ہے۔

عدالت میں دونوں ملزمان کی وہ تقاریر بھی سنائی گئیں  جن میں انہوں نے لوگوں کو داعش کی حمایت پر اکسانے کی کوشش کی ، جبکہ دوسری طرف انسداد دہشت گردی کے ادارے کا کہنا ہے کہ انجم چوہدری اور ان کی تنظیم المہاجرون نوجوان مردوں اور عورتوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کرنے کی ذمہ دار ہیں، جن میں ۲۰۱۳ ء میں قتل کیے جانے والے فوجی لی رگبی کے قاتل بھی شامل ہیں ۔

انجم چوہدری اور میزان الرحمن کو سزا سناتے ہوئے جج جسٹس ہولروئڈ نے کہا : دونوں ملزمان نے مجرمانہ اقدامات کیے۔ انھوں نے ملزان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : آپ کی تقاریر سننے والوں میں بہت سے ایسے کچے ذہن کے افراد تھے جو آپ سے رہنمائی چاہتے تھے۔

واضح رہے کہ لندن کے نواحی علاقے الفرڈ سے تعلق رکھنے والے انجم چوہدری اور پامر گرینز سے میزان الرحمن کو گزشتہ ماہ دہشت گردی ایکٹ کی شق ۱۲  کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

چیچنیا کے شہر گروزنی میں ہونے والے اہلسنت اجلاس میں ۲۰۰ سے زائد علماء نے وہابی دیوبندیوں کو اہلسنت سے خارج کرتے ہوئے کہا : وہابی دہشت گردوں کو اہلسنت سے کوئی تعلق نہیں وہ سعودی عرب کی طرح امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ ہیں۔ /۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬