
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی اور شمالی کشمیر اور دارالحکومت سری نگرکے مختلف علاقوں میں جمعرات کوبھی شدید احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔
وادی کے قصبہ ترال سے خبر ہے کہ پولیس اور سیکورٹی فورس کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر جب مظاہرہ کر رہے نوجوانوں کو گرفتا کرنے کی کوشش کی تو مقامی آبادی سڑکوں پر نکل آئی اور اس نے نوجوانوں کو گرفتار نہیں ہونے دیا، اس موقع پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی ہے ۔
پولیس نے الزام لگایا ہے کہ مظاہرین نے اس پر حملہ کردیا جبکہ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لئے آنسوگیس کا استعمال کیا اور پیلٹ گنوں سے بھی فائرنگ کی ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر میں جمعرات کو مظاہروں کی شدت دیکھی گئی تاہم کسی بڑے نا خوشگوارواقعے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے ۔
دریں اثنا جنوبی کشمیر میں ایک عوامی جلسے سے اپنے ٹیلی فونک خطاب میں، علیحدگی پسند کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ پرامن احتجاجی مظاہرے جاری رکھیں ۔ ا نہوں نے لوگوں سے عید قربان سادگی سے منانے کی اپیل کی ہے ۔
دوسری جانب ریاستی وزیراعلی محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ انہوں نے وادی میں امن بحال کرنے کے لئے جو سیاسی اور مذاکراتی عمل شروع کیا ہے اسے وہ جاری رکھیں گی ۔
انہوں نے ایک سرکاری تقریب میں کہا کہ میں لوگوں سے وعدہ کرتی ہوں کہ مذاکراتی اور سیاسی عمل کو ڈی ریل نہیں ہونے دوں گی ۔ محبوبہ مفتی نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ وادی میں امن قائم کرنے کے لئے حکومت کا ساتھ دیں۔/۹۸۹/ف۹۴۰/