10 September 2016 - 19:50
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423145
فونت
شیخ ماهر حمود:
اہلسنت کے ممتاز عالم دین نے کہا : نجدی پہلے بھی اسلام کے لئے خطرہ تھے اور آج بھی اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں کل بھی انھیں سامراجی طاقتوں کی حمایت حاصل تھی اور آج بھی ان کی پشت پر سامراجی طاقتوں کا ہاتھ ہے ۔
شیخ ماهر حمود

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اہلسنت مزاحمتی یونین کے سربراہ  اور اہلسنت کے ممتاز عالم دین شیخ ماہر حمود نے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای  کے حج کے پیغام کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے کہا : آج پوری دنیا نجدی وہابیوں  کے فتنوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں سے شدید رنجیدہ ہے اور اس کی لپیٹ میں آگئی ہے یہ نجدی فتنہ پرور وہابیوں کو آل سعود کی بھر پور حمایت حاصل ہے ۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا : ایران کے روحانی پیشوا کا پیغام درست اور بر وقت اقدام ہے جس پر عالم اسلام کو بھر پور توجہ مبذول کرنی چاہیے اور ان کے مفید نصیحت کو عملی جامعہ پہنانے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔

شیخ ماھر حمود نے کہا : آل سعود ایک وحشی ، جاہل ، نادان اور نجدی پرور خاندان ہے جس کی حج کے معنوی ، اخلاقی ، روحانی اور سیاسی پہلوؤں پر کوئی  توجہ نہیں ہے وہ صرف تیل کے پیسوں پر تکبر کر رہا ہے، آل سعود کی توجہ صرف مادیات پر مرکوز ہے اور وہ حج سے صرف مادی فوائد حاصل کرتے ہیں اور انھیں امریکی اور اسرائیلی مفادات میں خرچ کرتے ہیں۔

انہوں نے بیان کیا : منی میں صرف ایرانی حجاج ہی شہید نہیں ہوئے بلکہ منی کے سات ہزار شہداء میں ایران کے صرف چار سو پیسٹھ حاجی شہید ہوئے اور ایرانیون نے عزت اور حرمت کے ساتھ اپنے شہید حجاج  کی شناخت کی اور انھیں عزت اور عظمت کے ساتھ دفن کیا ۔

علماء اہلسنت کے ممتاز عالم دین نے کہا : جبکہ باقی شہداء کا تعلق دیگر اسلامی ممالک سے تھا اور انھوں نے اپنے حاجیوں کو سعودی عرب کے حکام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور ان کی بغیر سناخت کے تدفین ہوگئی ۔

انھوں نے تاکید کرتے ہوئے بیان کیا : مجھے اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ دوسرے اسلامی ممالک نے اپنے شہداء کی مشکوک موت کے بارے میں صاف اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیوں نہیں کیا؟ منی کے شہیدوں کو بغیر کسی شناخت ، تشخیص اور تحقیق  کےکیوں دفن کردیا گيا؟ آخر وہ راستہ بغیر اطلاع کئے کیوں بند کر دیا گیا جس سے حجاج گزر رہے تھے ؟

شیخ ماھر حمود نے بیان کیا : جب تک منی کے المناک واقعہ کی غیر جانبدارانہ  اسلامی کمیشن کے ذریعہ صاف اور شفاف تحقیقات نہیں ہوتیں تب تک سعودی عرب کے حکام ملزم اور مجرم شمار ہوں گے تحقیقات کے بعد پتہ چلےگا کہ سعودی عرب کے حکام قصوروار ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا : جب آل سعود اپنے آپ کو بے گناہ کہتا ہے اور منا کے حادثہ کو ایک اتفاق بتا رہا ہے تو پھر اس کی غیر جانبدارانہ تحقیق کرانے سے کیوں بھاگ رہا ہے ؟۔

اہلسنت کے ممتاز عالم دین نے تاکید کی : سعودی عرب کے حکام نے ایرانی حجاج کو حج سے محروم کرکے سنگین اور تاریخی جرم و جنایت کا ارتکاب کیا ہے ۔

انہوں نے کہا : نجدی شرپسندوں نے سرزمین وحی کا نام تبدیل کرکے آل سعود کے نام پر رکھ دیا۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سرزمین وحی کو سعودی عرب کے نام سے نہیں بلکہ حجاز کے نام سے پکاریں ۔ حجاز پر آل سعود نے ویسے ہی غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے جیس فلسطین پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ ہے۔

اہلسنت کے ممتاز عالم دین نے سعودی عرب کے نجدی مفتیوں کے ایران کے خلاف بیانات کو باطل اور کفر پرمبنی قراردیتے ہوئے کہا : نجدی مفتی جو آل سعود و امریکا کے پیسوں سے زبان کھولتے ہیں خود دائرہ اسلام سے خارج ہیں وہ خود مشرک ہیں وہ امریکہ اور آل سعود کے بت کی پرستش کررہے ہیں۔

شیخ ماھر حمود نے کہا : نجدی پہلے بھی اسلام کے لئے خطرہ تھے اور آج بھی اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں کل بھی انھیں سامراجی طاقتوں کی حمایت حاصل تھی اور آج بھی ان کی پشت پر سامراجی طاقتوں کا ہاتھ ہے وہ کل بھی اسلام کے دشمن تھے اور آج بھی اسلام کے دشمن ہیں۔

واضح رہے کہ عالم اسلام کے عظیم رہبر کی طرف سے حج پیغام میں آل سعود کا حقیقی چہری روشن ہو جانے کے بعد وہاں کے درباری مفتی نے پیسے کے زور پر اس کی مخالفت کی تھی جس کا جواب ایک با فہم و حقیقت پسند عالم دین نے دی ہے ۔/۹۸۹/الف۹۳۰/ک۷۹۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬