16 September 2016 - 23:12
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423275
فونت
حجت الاسلام ناظر عباس تقوی:
شیعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کے صدر نے کہا : حکومت نے اگر نشتر پارک کے جلسے کو روکنے کی کوشش کی تو ہم پورے سندھ کی ہر شاہراہ کو نشتر پارک بنا دیں گے ۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان

سا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شیعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کے صدر حجت الاسلام ناظر عباس تقوی نے شکار پور میں خودکش حملے کو ناکام بنانے پر پولیس اہلکاروں اور عوام کی جرات اور بہادری پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

انہوں نے کہا : بروقت اقدام نے شکار پور کو ایک بار پھر بڑے سانحے سے بچا لیا اور زندہ خودکش حملہ آور پکڑنے میں کامیاب ہوگئے، ہم حکومتِ سندھ، پولیس، رینجرز و دیگر ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گذشتہ سانحات میں خودکش حملہ آور کے سر اور جسم کے مختلف اعضاء کے ڈی این اے ٹیسٹ کرا کے شناخت کی جاتی تھی۔

شیعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کے صدر نے تاکید کی : اب شکار پور میں زندہ خودکش حملہ آور گرفتار کیا گیا ہے، جو پوری دنیا کے میڈیا نے نشر کیا، ہم منتظر ہیں کہ اس خودکش حملہ آور کی پُشت پناہی پر کون سی قوتیں ملوث ہیں؟ اس خودکش حملہ آور کو شکار پور کس نے پہنچایا؟ کس جگہ قیام کیا اور کون سے سہولت کار اس نیٹ ورک کو سپورٹ کر رہے تھے؟ یہ وہ سوالات ہیں کہ جن کے جوابات حکومت کو دینے ہونگے اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا ہوگا، اگر یہ دہشت گرد پولیس کی حراست میں مارا گیا یا فرار کرایا گیا تو پھر اس کی ذمہ داری بھی حکومت پر عائد ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا : ہم گذشتہ کئی سالوں سے اس مسئلے کو سابق وزیرِاعلٰی سندھ، آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز سندھ کے سامنے کئی بار بتا چکے ہیں کہ شکار پور، جیکب آباد، نصیرآباد، خانپور اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کا ایک منظم اور مضبوط نیٹ ورک موجود ہے اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد یہاں سے آپریٹ کئے جاتے ہیں، یہ خود حساس اداروں کی رپورٹ ہے لیکن اس کے باوجود اندرونِ سندھ جو دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، ان کے خلاف آپریشن نہ کرنا حکومت کی بدنیتی پر منحصر ہے۔ پورے سندھ میں کراچی کی طرز پر دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔

حجت الاسلام ناظر عباس تقوی کا مزید کہنا تھا کہ محرم الحرام کی آمد ہے اور سندھ میں دہشت گردی کی صورتحال قابلِ تشویش ہے، اندرونِ سندھ میں آپریشن حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے بلکہ حکومت آپریشن میں رکاوٹ ہے، لہٰذا محرم الحرام سے پہلے دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ۲۴ ستمبر کو نشتر پارک میں تحفظِ عزاء کانفرنس میں عزاداری کے خلاف ہونے والے سازشوں اور اندرونِ سندھ میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہ کرنے پر عوامی قوت و طاقت کا اظہار کریں گے، حکومت نے اگر نشتر پارک کے جلسے کو روکنے کی کوشش کی تو ہم پورے سندھ کی ہر شاہراہ کو نشتر پارک بنا دیں گے۔/۹۸۹/۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬