18 October 2016 - 20:25
News ID: 423913
فونت
ڈاکٹر طاہر القادری:
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا : نواز شریف پاکستان میں کسی اور ملک کی انویسٹمنٹ ہے، ان کے مفادات پاکستان کی سالمیت سے ہٹ کر ہیں، وہ خاندانی بادشاہت کر رہے ہیں، ہمیں صرف استعفیٰ نہیں لینا بلکہ ان کی خاندانی بادشاہت ختم کرنی ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت کے لوگ اتنے مکار ہیں کہ وہ تلاشی کیلئے ہاتھ نواز شریف کی جیب میں ڈالیں گے اور پیسے عمران خان کی جیب سے نکل آئیں گے، عمران خان کی جدوجہد کی کامیابی کیلئے دعاگو ہوں ۔

انہوں نے کہا : تاہم آج کے دن تک ان کی ہمارے ساتھ کسی بھی مرحلے پر کوئی مشاورت نہیں ہوئی، پیپلز پارٹی کے نواز حکومت سے 4 مطالبات برفی اور گلاب جامن کی طرح ہیں، نواز شریف اپنے اقتدار کی 33 فی صد جنگ خود 67 فی صد کوئی اور لڑ رہا ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ نواز شریف پاکستان میں کسی اور ملک کی انویسٹمنٹ ہے، ان کے مفادات پاکستان کی سالمیت سے ہٹ کر ہیں، وہ خاندانی بادشاہت کر رہے ہیں، ہمیں صرف استعفیٰ نہیں لینا بلکہ ان کی خاندانی بادشاہت ختم کرنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف کی تلاشی کیلئے کمیشن کا اعلان بھی کر دیا جائے تب بھی میں انہیں نہیں مانتا، حکمران جماعت کے لوگ اتنے مکار ہیں کہ وہ تلاشی کیلئے ہاتھ نواز شریف کی جیب میں ڈالیں گے اور پیسے عمران خان کی جیب سے نکل آئیں گے، ایسا احتساب چاہتا ہوں جس میں نظام بدلے صرف چہرے نہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کی کمیشن رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں آئی، ایسا نظام نہیں چاہتے جس میں ماڈل ٹاون کا قصاص نہ ہو، میں ان ہاوس تبدیلی نہیں، ڈاکووں کا سیاست سے خاتمہ چاہتا ہوں، ہم اپنے ایجنڈے میں بڑے کلیئر ہیں، ہمارے 4 مقاصد ہیں، پہلے قصاص پھر احتساب، اصلاحات اور پھر انتخابات، ہم چاہتے ہیں کہ چہرے نہیں نظام بدلے اور تمام چور، ڈاکو کک آؤٹ ہوں، احتساب اور اصلاحات کے بغیر انتخاب ہوئے تو یہی ڈاکو دوبارہ آ جائینگے اور ان مقاصد کے بغیر توانائی ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 2014ء کے دھرنے کے حوالے سے دونوں جماعتوں نے اپنا اپنا الگ فیصلہ کیا، ہم احتساب کے حوالے سے تحریک انصاف سے 10 قدم آگے ہیں، آرٹیکل 62 اور 63 کا تعارف ہم نے کرایا، سوال یہ ہے کہ نواز شریف نے استعفیٰ بھی نہ دیا اور تلاشی بھی تو نہ دی تو پھر کیا ہو گا اور استعفیٰ اور تلاشی کون لے گا؟ نیب، ایف آئی اے اور پارلیمانی کمیٹیاں نواز شریف کی نوکر ہیں، الیکشن کمیشن، پولیس اور ملکی ادارے ان کے خریدے ہوئے اور نواز شریف کے نوکر ہیں، قصاص کا یقین ہو تب جدوجہد کریں گے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ جب جمہوریت ہے ہی نہیں تو اسے بچانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ بلاول بھٹو نے بھی نواز شریف کو 4 نکات دیے تھے اگر وہ اور ان کی پارٹی عقلمند ہو تو انکے مطالبات کو پورا کر دیں، 2 نومبر کو کیا ہوگا؟

دھرنا کتنا طویل ہوگا؟ مجھے کچھ نہیں پتا، اتنا بڑا فیصلہ کرنے کیلئے بار بار پارٹی اجلاس کرنے پڑتے ہیں، لیکن میں پھر بھی دعاگو ہوں کہ عمران خان کامیاب ہو جائیں، تحریک انصاف سے کوئی ناراضگی نہیں، انکا وفد آ جاتا تو شرکت کا فیصلہ ناممکن نہیں، اگر ہم بھی ان سے بغیر مشاورت کے دھرنا کرتے تو وہ بھی ہمیں انکار کر دیتے کیونکہ دھرنے میں بیٹھنے کیلئے سارا کچھ پہلے سے طے کیا جاتا ہے، ہمارے درمیان کوئی بھی ناراضگی نہیں، شورش بازی صرف میڈیا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری ذاتی رائے ہے تحریک انصاف نے اسمبلیوں سے استعفے دئیے تو یہ ایک موثر دباؤ ہوگا، ہر کسی کے اپنے مطالبات ہوتے ہیں، وہ نواز شریف کا استعفیٰ چاہتے ہیں جبکہ میں نظام میں بھی تبدیلی چاہتا ہوں، عمران خان کے بیان پر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ میں ان کی اس طرح کی گفتگو پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں، اس طرح کی زبان استعمال کرنا ہمارے کلچر کا حصہ نہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ نواز شریف اول تو استعفیٰ نہیں دینگے اگر دیا تو ممنون حسین، اسحاق ڈار، سعد رفیق، خواجہ آصف جیسا کوئی وزیراعظم آ جائے گا، ہمیں اس کرپٹ اور لٹیرے نظام کا استعفیٰ چاہیے، میری خواہش ہے کہ پاکستان اسکے عوام اسکی فوج کو کچھ نہ سمجھنے والے ایک دن کیلئے بھی اقتدار میں نہ رہیں، نواز شریف کی بقا کی جنگ کوئی اور لڑ رہا ہے، سوال یہ ہے جن کیلئے پاکستان گوارا نہیں ان کیلئے وزیر اعظم پاکستان کیوں گوارا ہے؟

نظام عدل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ قتل کے جھوٹے مقدمے میں 19 سال سزا کاٹنے والے مظہر حسین کو جب اکتوبر 2016ء میں سپریم کورٹ نے باعزت بری کیا تو پتہ چلا 2 سال قبل وہ جیل میں ہی وفات پا گیا تھا۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬