23 October 2016 - 19:27
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 424014
فونت
مجلس وحدت مسلمین پنجاب نے پریس کانفرنس میں بیان کیا؛
مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے صوبائی سیکرٹریٹ لاہور میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں شیڈول فور کے تحت ظالم اور مظلوم کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا عمل جاری ہے جو قابل مذمت ہے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے صوبائی سیکرٹری جنرل حجت الاسلام مبارک موسوی اور مرکزی سیکرٹری سیاسیات و رکن شوریٰ عالی سید اسد عباس نقوی نے دیگر رہنماوُں سید حسن کاظمی،حجت الاسلام نیاز ہمدانی،سید حسین زیدی کے ہمراہ صوبائی سیکرٹریٹ لاہور میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ ملک بھر میں شیڈول فور کے تحت ظالم اور مظلوم کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا عمل جاری ہے جو قابل مذمت ہے۔

اس کانفرنس میں بیان کیا گیا : مفسر قرآن حجت الاسلام شیخ محسن نجفی، حجت الاسلام امین شہیدی، حجت الاسلام مقصود ڈومکی، حجت الاسلام نیر مصطفوی جیسے جید علماء کرام کو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی صف میں کھڑا کر کے ملت جعفریہ کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔

پریس کانفرنس میں بیان ہوا : دہشت گردوں کیخلاف جب ملک کی ساری سیاسی و مذہبی جماعتیں مذاکرات کی رٹ لگانے میں مصروف تھیں،تب ملک کی واحد سیاسی ومذہبی جماعت مجلس وحدت مسلمین تھی جس نے اعلان کیا تھا کہ اس ناسور کیخلاف فیصلہ کن کاروائی کے بغیر ملک میں امن کا قیام ناممکن ہے، پاکستان میں دہشت گردی کیخلاف سب سے بڑی قربانی ہماری ہیں، ہم نے اپنے ہزاروں شہداء کے جنازے اٹھائے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ آج مصلحت پسندی اور سیاسی مفادات کے خاطر ہمیں انصاف تو دینا کجا الٹا ہمیں ہی بیلنس پالیسی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

حجت الاسلام مبارک موسوی نے کہا کہ محرم الحرام میں امن کی بحالی کے اقدامات کے ہم معترف ہیں البتہ سیالکوٹ اور خانیوال میں بے گناہوں کو جلوس اور عزاداری کے جرم میں دہشت گردی کے مقدمات بنائے گئے،جو متعصب انتظامیہ کے بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے، ارباب اختیار ایسے واقعات کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دیں۔

انہوں نے کہا : کرپشن کے خاتمے کے بغیر دہشتگردی کے خلاف جنگ کا جیتنا ممکن نہیں، لھذا پانامہ لیکس سمیت دیگر کرپشن کے کیسوں  کیخلاف فوری تحقیقات کو مکمل کر کے ذمہ داروں کیخلاف کاروائی عمل میں لایا جائے ۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬