‫‫کیٹیگری‬ :
24 October 2016 - 12:59
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 424030
فونت
حجت الاسلام و المسلمین سید حسن نصرالله:
حزب اللہ لبنان کے جنرل سکریٹری نے گذشتہ روز اپنی تقریر کے دوران کہا: سعودیہ عربیہ نے داعش جیسے گروہوں کو اسلام اور رسول اسلام کو بدنام کرنے کے لئے بنایا ہے ۔
حجت الاسلام و المسلمین سید حسن نصرالله

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے جنرل سکریٹری حجت الاسلام و المسلمین سید حسن نصرالله نے گذشتہ روز بیروت میں حزب اللہ لبنان کے کمانڈر شہید حاتم حمادہ کی یاد میں منعقدہ ایک پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے کہا: سعودیہ عربیہ نے امریکا اور اسرائیل جیسی استعماری طاقتوں کی ھمراھی میں داعش جیسے گروہوں کو بنایا تاکہ اسلام اور محمد مصطفی کے نام کو بدنام کرسکے ۔

انہوں نے کہا: امریکی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نےاعتراف کیا ہے کہ داعش کی تشکیل میں سعودی عرب اور بعض دیگر ممالک نے اہم نقش ایفا کیا ہے کیا کوئی داعش کو تشکیل دینے والوں کا احتساب کرسکتا ہے بیان کیا: کیا دنیا میں کوئی داعش کے حامی ممالک کے بارے میں تحقیق کا مطالبہ اور داعش دہشت گرد گروہ کے جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار ہے ۔

سید حسن نصر اللہ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ سعودی عرب نے اسلام اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کو بدنام کرنے کے لئے داعش دہشت گرد تنظیم کو تشکیل دیا کہا: سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ ملاکر شام جیسے اسرائیل مخالف عرب ملک کو تباہ کرنے کے لئے دہشت گردوں کی بڑے پیمانے پر حمایت کی ۔

انہوں نے حزب اللہ لبنان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور قوت کی جانب اشارہ کیا اور کہا: ہماری قوت اور تجربہ میں اضافہ ہوا ہے ہم نے تین بار اسرائیل کو شکست سے دوچار کیا ہے ہم نے لبنان کی سرزمین کو اسرائیل سے آزاد کرالیا ہے ہم فلسطین کو بھی آزاد کراکر ہی دم لیں گے۔

سید حسن نصر اللہ نے یہ کہتے ہوئے کہ حزب اللہ لبنان نے شامی حکومت کی حمایت کرکے امریکہ، اسرائيل اور سعودی عرب کے شوم منصوبوں کو ناکام بنادیا ہے کہا: شام نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں حزب اللہ کی بھر پور مدد کی اور حزب اللہ  بھی آج امریکی، اسرائيلی اور سعودی عرب کے تربیت یافتہ اور حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف شامی حکومت کی حمایت میں مصروف ہے۔

انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ موصل اور حلب کی لڑائی یکساں ہے ترکی موصل اور حلب پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ترکی ان علاقوں پر پہلے دہشت گردوں کے ذریعہ قبضہ کرنا چاہتا تھا لیکن اب وہ خود موصل کے آپریشن میں شرکت کرنے کی تلاش کررہا ہے اور حشد الشعبی کو منع کررہا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی منافقانہ کردار ادا کررہا ہے کہا : شام اور عراق کے عوام کی مشکلات میں ترکی کا بھی نمایاں کردار ہے لیکن دہشت گردوں کے حامی تمام ممالک کو اللہ تعالی دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا ۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے یہ کہتے ہوئے کہ حلب میں میں ترکی کے تمام تر اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ کسی دن اس پر اپنی ملکیت کا دعوی کردیا جائے کہا : یمن کے عوام کے خلاف جنگ مسلط ہے اور مہینوں سے بے گناہوں پر بمباری کی جارہی ہے لیکن اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔

سید حسن نصر اللہ نے دنیا کے مسلمانوں بالخصوص فلسطینی اور یمنی مسلمانوں کے ساتھ  سعودی عرب کی خیانتوں اور سازشوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا : مسئلہ فلسطین کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ سعودی عرب ہے اور سعودی عرب نے یمن کے 20 ملین مسلمانوں کو امریکہ اور اسرائيل کے ساتھ ملکر محاصرے میں لے رکھا ہے، جبکہ اسرائیل نے غزہ کے مسلمانوں کو محاصرے میں لے رکھا ہے، سعودی عرب کی اسلام دشمن عناصر اور طاقتوں کے ساتھ ساز باز ہے ۔

انھوں نے مزید کہا : سعودی عرب کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف خیانتیں اور بھیانک جرائم  بتدریج آشکار ہورہے ہیں ، سعودی عرب حرمین الشریفین کی آڑ میں سامراجی طاقتوں کے مفاد میں کام کررہا ہے ۔

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ حلب اور موصل میں داعش کے خلاف جاری جنگ انتہائی حساس اور تقدیر ساز مرحلے میں داخل ہوگئی ہے کہا: شام کی صورتحال سے واضح ہوگیا کہ دہشت گردوں کا مقصد صرف شامی حکومت کو ختم کرنا نہیں بلکہ پورے خطے کی تہذیب اور ثقافت کو نابود کرنا ہے۔

سید حسن نصر اللہ اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ داعش اور اس جیسے دیگر گروہوں نے سب سے زیادہ اہلسنت مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے کہا: دہشت گرد صرف جنگل کے قانون کو جانتے ہیں اور خطے کی سرحدیں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، داعش اب تک دسیوں ہزار لوگوں کو قتل کرچکا ہے اور اس کے تباہ کن اقدامات کا سلسلہ بدستورجاری ہے لیکن داعش کے حامیوں کے خلاف کسی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے شہید علاء کو مؤمن، مخلص ، شجاع ، بہادر اور بہترین کمانڈر بتاتے ہوئے کہا: انھوں نے اپنی ماموریت کے دوران اہم کارنامے انجام دیئے ہیں ہم جسے سراہتے ہیں ۔/۹۸۸/ن۹۳۰/ک۸۶۴

 

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬