06 December 2016 - 23:09
News ID: 424911
فونت
حجت الاسلام سید احمد اقبال رضوی :
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کہا : افغانستان سمیت خطے کے دیگر مسلم ممالک سے بھارت کے مضبوط تعلقات ہمارے کمزور خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔
حجت الاسلام احمد اقبال رضوی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل حجت الاسلام سید احمد اقبال رضوی  نے ہارٹ آف ایشا کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کی طرف سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کو بے بنیاد مضحکہ خیز قرار دیا ہے ۔

انہوں نے کہا : پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگانے سے پہلے افغانستان صدر اشرف غنی کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے تھی کہ پاکستان کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے والی طالبانی قوتیں افغانستان میں ہی پروان چڑھی ہیں۔

انہوں نے کہا : پاکستان میں دہشت گردی کے جتنے بھی بڑے واقعات ہوئے ہیں ان میں بھارت اور افغانستان براہ راست ملوث رہے ہیں۔پاکستان میں کلاشنکوف اور منشیات کو متعارف کرنے والے عناصر بھی پناہ کی غرض سے افغانستان سے پاکستان میں داخل میں ہوئے تھے۔ پاکستان کی سالمیت و استحکام کے خلاف پڑوسی ممالک کی کارستانیاں کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت اور پھر واویلا چور مچائے شور کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا : کانفرنس میں پاکستانی مدعوئین کے ساتھ بھارت کا تضحیک آمیز رویہ قابل مذمت ہے۔بھارت نے میزبانی کا حق ادا کرنے کی بجائے کم ظرفی کا ثبوت دیا ہے۔سفارتی آداب کے منافی اس نامناسب رویہ پر بھارت کو حکومتی سطح پر معذرت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کا وقار ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے۔کسی بھی ملک کا پاکستان کے ساتھ جارحانہ رویہ قابل قبول نہیں۔کانفرنس میں شریک دیگر ممالک کو بھی بھارت کے اس ناروا رویہ پر تنقید کرنا چاہیے تھی۔ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔خطے کے دیگر ممالک سے ہم آہنگی اور دوستانہ روابط کو بڑھانے کے لیے مربوط لائحہ عمل طے کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا : افغانستان سمیت خطے کے دیگر مسلم ممالک سے بھارت کے مضبوط تعلقات ہمارے کمزور خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔بھارت کی طرف سے افغانستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار ہمیں خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے کافی ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬