‫‫کیٹیگری‬ :
12 December 2016 - 12:34
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425033
فونت
حزب الله لبنان:
حزب الله لبنان نے مصر ، ترکی ، سومالی اور نائجیریا میں ہونے والے بم بلاسٹ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہ تاکید کی کہ داعش کی جڑوں کا خشک ہونا اس ناپاک وجود سے نجات کا واحد راستہ ہے ۔
حزب اللہ لبنان

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب الله لبنان نے اپنے صادر کردہ پیغام میں بعض ممالک میں ہونے والے بم بلاسٹ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا: مصر ، ترکی ، سومالی اور نائجیریا جیسے عرب اور مسلم ممالک میں ہونے والے بم بلاسٹ کہ جو دسیوں افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے کا سبب بنا محکوم ہے ۔

حزب الله لبنان نے مزید کہا: یہ بم بلاسٹ وہ حیوان صفت عمل ہے ، جسے یہ گروہ ھر زمان و مکان میں بغیر کچھ سوچے سمجھے انجام دیتا ہے ۔

انہوں نے واضح طور سے کہا: دھشت گرد تکفیری انسانی معاشرے کی مصبیت اور ایک ایسی بیماری ہیں جس کا نابود کیا جانا ضروری ہے کیوں کہ معاشرہ ان کے خطرات سے روبرو ہے اور اس کا کوئی علاج بھی نہیں ہے ، خصوصا اس حوالے سے کہ مغربی اور عرب حکومتیں ان کی مالی اور معنوی حمایت کر رہی ہیں ۔

اس پیغام  کے دوسرے حصے میں مصر کے چرچ میں ہونے والے بم بلاسٹ کی شدید مذمت کرتے ہوئے آیا ہے : عبادت کے ھنگام میں چرچ میں بم بلاسٹ کا مقصد فتنہ پروری ، دین کی توھین ، معاشرہ کی تخریب اور شھریوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا ہے ، یہ جنایت بھی داعش کے ہاتھوں مصر میں ہونے والی دیگر جنایتوں کے مانند ہے ۔

حزب الله لبنان نے اس سانحہ میں مارے جانے والے افراد کے پسماندگان کو تعزیت پیش کی اور ان سے ھمدردی کا اظھار کرتے ہوئے مجروحوں کی شفا کی دعا کی اور کہا: عرب دنیا اور عالم اسلام کے عقلاء سے ہماری درخواست ہے کہ وہ متحد ہو کر دھشت گردوں اور ان کے حامیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں ۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز ترکی کے دار الحکومت استامبول میں ہونے والے بم بلاسٹ میں کم سے کم ۳۰ افراد جاں بحق اور ۴۰ افراد زخمی ہوگئے ہیں ۔

نیز مصر میں عیسائیوں کے چرچ میں ہونے والے بم بلاسٹ میں بھی متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے ہیں ۔

گذشتہ ھفتہ سومالیہ اور نائجیریا میں ہونے والے دھشت گردانہ حملے میں متعدد افراد خون میں غلطاں ہوگئے ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۴۱۴

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬