01 January 2017 - 10:08
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425416
فونت
ڈاکٹر طاہرالقادری:
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا : جمہوریت، خوشحالی اور ترقی کے اعداد و شمار اور اشاریوں کی اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں جب تک عام آدمی کی زندگی میں بہتری نہیں آتی ۔
ڈاکٹر طاہرالقادری

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ گورننس کے اعتبار سے 2016ء ایک بدترین سال تھا، نئے سال میں بھی سب سے بڑا خطرہ دہشتگردی، انتہاپسندی اور حکمرانوں کی کرپشن ہوگا، پائیدار امن کے قیام کی راہ میں ابھی انتظامی، سیاسی اور مذہبی انتہا پسندانہ رویے حائل ہیں، ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور رویے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان کے امن پسند عوام کے دامن پر جو انتہا پسندی اور عدم برداشت کا داغ لگایا گیا ہے اسے دھونا ہوگا۔ 2017ء میں بھی سب سے بڑا خطرہ دہشتگردی، انتہاپسندی اور حکمرانوں کی کرپشن ہو گا، اس حوالے سے عوام کو اپنا سیاسی، جمہوری کردار ادا کرنا ہوگا۔

نئے عیسوی سال کی آمد پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ گورننس کے اعتبار سے 2016ء ایک بدترین سال تھا، بنیادی انسانی حقوق پامال ہوئے، احتساب اور احتسابی قوانین کا مذاق اڑایا گیا، 2016ء میں بھی شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کو انصاف نہ مل سکا، پاناما لیکس کے ملزمان کا احتساب ہوا نہ نیوز لیکس کے مجرم کیفر کردار کو نہ پہنچ سکے، سانحہ کوئٹہ کمیشن کی سفارشات پر عمل نہیں کیا گیا، قومی ایکشن پلان کو سبوتاژ کیا گیا یہ 2016 کی تلخ یادیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2016ء میں بھی حکمرانوں نے بے تحاشا قرضے لینے کا ریکارڈ قائم کیا، ایک سال میں 30 کھرب روپے قرضہ لیا گیا اور پارلیمنٹ اس حوالے سے حکومت کا محاسبہ کرنے میں ناکام رہی، 2016ء میں کشمیری مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے مگر حکومت اس ضمن میں اپنا بین الاقوامی سفارتی کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔ 2016ء میں بھی مہنگائی کو کنٹرول کرنے، بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے محض اخباری بیانات ثابت ہوئے، ادویات کی قیمتوں میں 5، چینی کی قیمتوں میں 4 مرتبہ اضافہ ہوا، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 60 فیصد تک اضافہ ہوا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی کمی کا پورا ریلیف عوام کو منتقل نہ کیا گیا۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ کرپشن کے کسی میگا سکینڈل کے ملزم کو سزا نہ مل سکی، بلدیاتی اداروں سے آئینی اختیارات اور وسائل چھینے گئے، 2016 ء میں بھی پنجاب میں لاقانونیت اپنے عروج پر رہی اس کے باوجود رینجرز کو آپریشن نہ کرنے دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت، خوشحالی اور ترقی کے اعداد و شمار اور اشاریوں کی اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں جب تک عام آدمی کی زندگی میں بہتری نہیں آتی، حکومتوں اور پارلیمنٹ کا قبلہ صرف عوام درست کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی جمہوریت کیلئے خود احتسابی اور شفافیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن اس ظالم نظام کا خاتمہ ہوگا اور پاکستان قائداعظم کے خوابوں کے مطابق 19 کروڑ عوام کے حقوق کا محافظ بنے گا، ظالم نظام کے خاتمے کیلئے کارکنوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬