05 January 2017 - 21:11
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425508
فونت
بشار اسد:
شام کے صدر نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردوں کی جنگ نے شامی عوام کے اندر اپنے تمدن اور ثقافت کی پابندی کا عزم مضبوط کیا ہے۔
بشار اسد

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شام کے صدر بشار اسد نے دمشق میں کیتھولیک عیسائیوں کے وفد سے ملاقات میں کہا کہ شام میں گذشتہ چند برسوں سے جاری جنگ، کہ جس نے شام کے تمام قبائل، عوام اور نسلوں کو نشانہ بنا رکھا ہے، اپنے ایک خطرناک ہدف کو جو اس قوم کے اتحاد و یکجہتی کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے، حاصل نہیں کر سکی ہے۔

صدر بشار اسد نے کہا کہ شامی عوام صدیوں سے اپنی تاریخ کی علامت رہے ہیں۔

اس ملاقات میں کیتھولیک عیسائیوں کے وفد کے سربراہ نے شہر حلب کی آزادی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دہشت گردوں کے قبضے سے تمام علاقے آزاد ہو جائیں گے اور جلد سے جلد شام میں امن و امان بحال ہو جائے گا۔

درایں اثنا شامی فوج، دہشت گردوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے مغربی دمشق کے مضافاتی علاقے میں واقع بسیمہ کالونی میں داخل ہو گئی ہے اور اس وقت اس کالونی کے ساتھ ہی وادی بردی علاقے کے عین الفیبہ اور عین الخضرہ قصبوں میں میں شامی فوج اور دہشت گردوں کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔

شامی فوج کے جنگی طیاروں نے ان علاقوں میں جبہت النصرہ دہشت گرد گروہ کے اڈوں کو نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق جو دہشت گرد مسلسل شام میں جنگ بندی کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ شامی فوج پر جنگ بندی کی مخالفت کا الزام لگاتے ہیں جبکہ داعش اور جبہت النصرہ دہشت گرد گروہ جنگ بندی میں شامل ہی نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسٹریٹیجک شہر حلب میں دہشت گردوں کی شکست کے بعد روس، ایران اور شام کے درمیان صلاح و مشورے کے تناظر میں پورے شام میں جنگ بندی نافذ ہے جس کا مقصد شام کے بحران کا سیاسی راہ حل پیدا کرنا ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬