03 March 2017 - 13:29
News ID: 426644
فونت
ہندوستانی وزارت داخلہ نے مقبوضہ کشمیر میں سی آر پی ایف کے لئے مزید پانچ ہزار پیلٹ گن خریدنے کی منظوری دے دی ہے ۔
کشمیر

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی وزارت داخلہ نے مقبوضہ کشمیر میں سی آر پی ایف کے لئے مزید پانچ ہزار پیلٹ گن خریدنے کی منظوری دے دی ہے اور اس کے لئے سرینگر کے ایک بٹالین ہیڈکوارٹر میں باضابطہ طور پر قابض فورسز کو پیلٹ گن چلانے کی تربیت بھی دی جارہی ہے۔

گزشتہ برس کے احتجاجی مظاہروں کے دوران پیلٹ گن کے وسیع پیمانے پر استعمال کے نتیجے میں قریب چھے ہزار لوگ زخمی ہوئے تھے، جس میں سینکڑوں افراد کی بینائی متاثر ہوئی تھی، جبکہ ستر کے قریب لوگ ایک آنکھ سے محروم ہوگئے اور سات افراد مکمل طور پر اندھے ہوگئے تھے، جن میں دو لڑکیاں بھی شام تھیں۔

جب انسانی حقوق اداروں اور سیاسی پارٹیوں نے احتجاج کیا تو بھارت نے پیلٹ گن کا متبادل تلاش کرنے کے لئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی، تاکہ مذکورہ گن کے استعمال پر روک لگائی جائے۔

تاہم سیکورٹی ایجنسیوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ پیلٹ گن کا استعمال ہی احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لئے موثر ہتھیار ثابت ہوا ہے، لہٰذا اس کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

ہندوستانی وزارت داخلہ نے پیلٹ گن میں استعمال ہونے والے چھے لاکھ سے زیادہ چھروں کے کاٹرج جنہیں عام طور پر پیلٹ شاٹس کہا جاتا ہے، خریدنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ برس فورس کے پاس ایسے شاٹس کی تعداد سو لاکھ تھی۔

شہر میں سی آر پی ایف کے ایک بٹالین کمانڈر نے کہا ہے کہ اب ہم نے پیلٹ گن کے ساتھ ڈفلیکٹر کو استعمال کرنا ہے جو گن کے سرے پر نصب کیا جائے، تاکہ پیلٹ چلاتے وقت وہ صرف ٹانگوں پر اثر انداز ہو، نہ کہ آنکھوں پر۔

ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال عوامی احتجاجہ لہر کے دوران پیلٹ گن کی وجہ سے آنکھیں متاثر ہوئی ہیں، اس لئے اس کی ساخت میں تھوڑی سی تبدیلی لائی جارہی ہے تاکہ آنکھیں متاثر نہ ہوں۔

مذکورہ کمانڈنٹ نے کہا کہ اس وقت نئے پیلٹ گن کو چلانے کی تربیت دی جارہی ہے کیونکہ تربیت کے بغیر چلانے سے ہی گذشتہ سال زیادہ لوگ متاثر ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت جوانوں کو پیلٹ گن چلانے کی تربیت دی جارہی ہے اور جونہی نئے پیلٹ گن آئیں گے تو پھر آنکھیں اور چہرے متاثر ہونے کا احتمال کم رہے گا۔

واضح رہے کہ ہندوستانی فوج کی طرف سے احتجاجی مظاہرہ کو ختم کرنے کے اقدام بے شمار بے گناہ کشمیری عوام زخمی ہوئے ہیں اور حکومت غیر زمہ دارانہ عمل کرنے سے باز نہیں آ رہی ہے ھندوستان کی مرکزی حکومت کھل کر کشمیریوں پر مختلف قسم میں تشدد کر رہی ہے۔ /۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬