16 April 2017 - 11:39
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 427535
فونت
شام میں ہونے والے خودکش حملے میں اب تک ۱۱۸ افراد جاں بحق اور ۲۲۴ زخمی ہو چکے ہیں۔
شام

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شام کے شمال میں فوعہ اور کفریا علاقوں سے معاہدے کے تحت نقل مکانی کرنے والے نہتے شہریوں کی بسوں پر خونخوار وہابی دہشت گردوں کے خودکش کار بم دھماکے میں 1۱۸ سے زائد افراد شہید ہوگئے ہیں ۔ جن میں 38 بےگناہ اور معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ اور 224 زخمی ہو چکے ہیں۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ خونخوار وہابی دہشت گرد نے کام بم دھماکے کے ذریعہ فوعہ اور کفریا سے نکلنے والے بےگناہ اور نہتے افراد کی بسوں کو نشانہ بنایا۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کی لاشوں کو جائے وقوعہ سے حلب کے مغربی شہر راشدین منتقل کردیا گیا ہے ۔

گاڑی چلانے والا خود کش بمبار امدادی اشیا فراہم کرنے کے بہانے سے آیا اور بسوں کے قریب اپنی گاڑی کو اڑا دیا۔

شہید ہونے والوں میں اکثریت علاقے سے انخلا کرنے والے شہریوں کی ہے جن میں 38 بےگناہ اور معصوم بچے بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ حلب کے مضافات میں واقع الراشدین علاقے میں خود کش بم دھماکے کی ذمہ داری احرار الشام  نامی دہشتگرد تکفیری گروہ نے قبول کر لی ہے۔

دہشت گردوں نے فوعہ اور کفریا کا پچھلے کئی برس سے محاصرہ کر رکھا تھا لیکن گذشتہ دنوں حکومت اور مسلح مخالفین کے مابین سمجھوتے کے بعد ان دونوں شہروں میں محصور باشندوں کو وہاں سے نکلنے کی اجازت مل گئی تھی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکا الراشدین محلے میں اس مقام پر ہوا جہاں فوعا اور کفریا کے شہریوں کو منتقل کرنے والی بسیں کھڑی تھیں۔

جاں بحق ہونے والے افراد میں 40 سے زائد بچے بھی ہیں۔ دھماکے کے فورا بعد افراتفری مچ گئی اور دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے کئی بسیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬