18 April 2017 - 13:40
News ID: 427573
فونت
پی چدمبرم :
ہندوستان کے سابق وزیر داخلہ و خزانہ نے کہا : کشمیری عوام کی بیگانگی تقریباً مکمل ہوچکی ہے۔
پی چدمبرم

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق کانگریس کے سینیئر لیڈر اور ہندوستان کے سابق وزیر داخلہ و خزانہ پی چدمبرم نے مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات کو انتہائی گھمبیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے ’’ہم کشمیر کو کھونے کے دہانے پر ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا ہے کہ کشمیر میں ہتھیار اٹھانے والوں اور کشمیر کو پاکستان کے ساتھ ملانے کا مطالبہ کرنے والوں کی تعداد محض سینکڑوں میں ہے، جبکہ کشمیری عوام کی غالب اکثریت آزادی کا مطالبہ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ جہاں ریاست میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی موجودہ مخلوط حکومت بے بس نظر آ رہی ہے، وہیں مسلح افواج نے اختلاف رائے اور گڑبڑی پر قابو پانے کے لئے طاقت کے استعمال کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔

پی چدمبرم نے ان باتوں کا اظہار انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس میں چھپنے والے اپنے سنڈے کالم میں کیا ہے۔

انہوں نے کشمیر کے موجودہ حالات میں سدھار لانے کے لئے کشمیر میں گورنر راج نافذ کرانے، تمام متعلقین بشمول علٰیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کئے جانے، مذاکرات کے لئے مذاکرات کاروں کی تقرری عمل میں لانے، فوج و دیگر سکیورٹی فورسز کی تعداد کم کرنے اور پاکستان کے ساتھ ملنے والی سرحدوں پر چوکسی سخت کرنے کی پانچ نکاتی تجاویز پیش کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوشتہ دیوار بالکل واضح ہے۔ کشمیری عوام کی بیگانگی تقریباً مکمل ہوچکی ہے۔ ہم کشمیر کو کھونے کے دہانے پر ہیں۔ ہم طاقت کے استعمال کی پالیسی، وزراء کے سخت بیانات، فوجی سربراہ کی سنگین تنبیہات، مزید فوجیوں کی تعیناتی یا احتجاجیوں کو ہلاک کرنے سے جاری صورتحال پر قابو نہیں پاسکتے ہیں۔

انہوں نے کشمیر کے موجودہ حالات کو انتہائی گھمبیر قرار دیا اور کہا ہے کہ جموں و کشمیر نے اچھا دور اور برا دور بھی دیکھا ہے، لیکن موجودہ دور اب تک کا بدترین دور نظر آرہا ہے۔

پی چدمبرم نے کہا ہے کہ کشمیر میں پی ڈی پی کو ایک دھوکے باز جبکہ بی جے پی کو ایک غاصب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 2014ء میں منعقدہ اسمبلی انتخابات کے بعد دو غیر امکانی اتحادیوں پی ڈی پی اور بی جے پی نے مخلوط حکومت تشکیل دی۔ یہ ایک بہت بڑی اشتعال انگیزی بنی ہوئی ہے۔

پی ڈی پی کو دھوکے باز جبکہ بی جے پی کو ایک غاصب کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ جہاں یہ مخالف سمتوں والی حکومت بے بس نظر آرہی ہے، وہیں مسلح افواج نے اختلاف رائے اور گڑبڑی پر قابو پانے کے لئے طاقت کے استعمال کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬