‫‫کیٹیگری‬ :
19 May 2017 - 12:48
News ID: 428130
فونت
شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹفین ڈی مستورا نے جنوا میں حکومت شام اور مسلح مخالفین کے وفود سے الگ الگ ملاقات اور گفتگو کی ہے۔
جنیوا امن مذاکرات

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مارے نمائندے کےمطابق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹیفن ڈی مستورا نے شامی وفد کے سربراہ بشار جعفری کے ساتھ ملاقات میں، ملک کے آئین، انتخابات کے انعقاد، حکومت کی تشکیل، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹیفن ڈی مستورا نے مسلح شامی دھڑوں کے نمائندہ وفود سے بھی ملاقات اور تبادلہ خیال کیا۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات ماضی میں ہونے والے مذارکرات سے مختلف ہیں اور اس بارشامی حکومت کے مخالف تمام دھڑے اس میں شریک ہیں۔

شام کے بارے میں چھٹے جنیوا مذاکرات سولہ مئی سے اقوام متحدہ کے یورپی ہیڈکوارٹر میں شروع ہوئے ہیں اور بیس مئی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب دمشق سے ہماے نمائندے کے مطابق، صدر بشار اسد نے فالح الفیاض سے گفتگو کرتے ہوئے دہشت گردی کے مقابلے میں شامی اورعراقی فوج کی کامیابی کو دونوں ملکوں میں امن و امان کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

صدر بشار اسد نے کہا کہ شام اور عراق کے دشمن مشترک ہیں اور دونوں ہی ملکوں کو دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ خطے کے ملکوں کو کمزور اور ان کے حصے بخرے کرنا چاہتے ہیں۔

عراق کی قومی سلامتی کے مشیر صالح الفیاض نے اس موقع وزیراعظم حیدرالعبادی کا زبانی پیغام بھی شام کے صدر بشار اسد کو پہنچایا۔

عراقی وزیراعظم نے اپنے زبانی پیغام میں تکفیری دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ میں عراق اورشام کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

عراقی وزیراعظم نے اپنے پیغام میں، داعش کے خلاف جنگ کے تناظر میں بغداد اور دمشق کے درمیان سرحدوں پر ہم آہنگی میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬