‫‫کیٹیگری‬ :
18 September 2017 - 20:16
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 430003
فونت
خود کی شناخت سود مندترین عمل ہے ، جو اپنے نفس کو پہچان لے گا وہ اسے بے اہمیت بنا دے گا ۔
علامہ حسن زاده آملی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علامہ حسن زاده آملی سرزمین ایران کی وہ اہم ترین شخصیت ہیں جن کا عرفان اور سیر وسلوک میں خاص مقام ہے ، ہم نے اس مقام پر نماز شب ، دوسروں کی دست گیری اور اپنے نفس کی شناخت کے حوالے سے آپ کے کلام کو یکجا کیا ہے جسے آپ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔

خلوت شب کو ھرگز ہاتھوں سے نہ دیں اور تہہ دل سے کہیں کہ الھی آیا ہوں تاکہ مجھے کامیاب و کامران بنادے ۔ سخن اور خواب و خوراک بقدر ضرورت رہے « کلوا واشربوا و لاتسرفوا » کھاو ، پیو مگر اسراف نہ کرو، عہد الھی کہ جو قران کریم ہے اس سے ہر روز تجدید عہد کرو ، پورے خلوص اور حضور دل سے رسول اسلام(ص) اور آل رسول(ص) سے متوسل ہو کہ یہ ذاتیں فیض الھی کا وسیلہ ہیں «اللهم صل علی محمد و آل محمد» ۔

نہیں کہتا ہوں مقدس نہ بنو ، مقدس بنو مگر عاقل رہو ، ایسے مقدس نہ رہو کہ یہ یا وہ تمہارا مذاق اڑائیں ، حکیم و سمجھدار رہو اور خدا کو اپنا وکیل و تکیہ گاہ بناو کہ وہ توانا ، دانا ، با وفا ، مہربان ہے اور اس سے زیادہ کوئی بھی اپنے وعدے میں ثابت قدم نہیں «حسبنا الله نعم الوکیل» ۔

سوره مبارکہ اخلاص کی ہمیشہ تلاوت کرو اور خلق خدا کے ساتھ مہربان رہو ، مزاح میں سہی تکلیف دہ باتوں سے پرھیز کرو ، غلط نہ بولو چاہے تمھارے فائدہ ہی میں کیوں نہ ہو ، سچ ہو تو بھی ھرگز قسم نہ کھاو ۔

جیسے کھڑے ہوتے ہو ویسے ہی جھکو ، جہاں تک ہوسکے نماز کو وقت پر پڑھو ، تجارت کو بہتر جانو کہ بیکار انسان دنیا و آخرت دونوں ہی کو کھو دیتا ہے کیوں کہ خرید و فروخت بندگی میں آڑے نہیں ہے «رجال لاتلهیهم تجاره و لابیع » ۔

مجھے تعجب ہے کہ انسان گم شدہ کی تلاش میں تو ہے مگر جو خود کو گم کرچکا ہے اور اس کی تلاش میں نہیں ہے ، تعجب ہے مجھے اس بات پر کہ جب خود سے لاعلم ہے تو خدا کو کیسے پہچانے گا جبکہ معرفت و شناخت کی حد یہ ہے کہ انسان خود کو پہچان لے ، جو انسان خود کو نہیں پہچانتا اسے دوسرے کی شناخت کیسے ہوگی ۔

خود کی شناخت سود مندترین عمل ہے ، جو اپنے نفس کو پہچان لے گا وہ اسے بے اہمیت بنا دے گا، جو اپنے نفس کو پہچان لے گا وہ اس سے جہاد کرے گا اور جو بھی خود کو پہچان لے گا وہ اپنے پروردگار کو پہچان لے گا ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۴۷۷

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬