‫‫کیٹیگری‬ :
20 September 2017 - 13:01
News ID: 430020
فونت
آیت الله وحید خراسانی نے محرم کے مبلغین سے ملاقات میں؛
سرزمین ایران کے مشھور مرجع تقلید حضرت ‌آیت الله وحید خراسانی نے تبلیغ کے سفر کو خداوند متعال کی عظیم نعمت جانا اور کہا: تبلیغی سفر کا نچوڑ عوام کے عقائد، احکام، تہذیب و اخلاقیات کی بہتری ہونا چاہئے ۔
آیت الله وحید خراسانی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، سرزمین ایران کے مشھور مرجع تقلید حضرت ‌آیت الله وحید خراسانی نے حوزه علمیہ قم کے مبلغین کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے ماہ محرم میں تبلیغ کی اہمیت بیان کیا اور کہا: اگر آپ قدر کریں تو اس سفر کی اہمیت اور عظمت کا بخوبی احساس کریں گے کہ پروردگار نے آپ کو کیا عظیم نعمت عطا کی ہے ۔

انہوں نے مبلغین کے تبلیغی سفر کے نتائج کی جانب اشارہ کیا اور کہا: اس تبلیغی سفر کا نتیجہ امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کا احیاء ہے ، یہ دونوں باتیں وہی باتیں ہیں جسے حضرت سید الشهداء‌ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا تھا «إِنَّما خَرَجْتُ لِطَلَبِ الاْصْلاحِ فى أُمَّةِ جَدّى، أُريدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهى عَنِ الْمُنْكَرِ ۔ ترجمہ : میں اپنے جد کی امت کے اصلاح کے لئے نکلا ہوں ، میں نے امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کا ارادہ کیا ہے۔ » آپ کا سفر کچھ اس طرح کا سفر ہے ۔

حضرت آیت الله وحید خراسانی نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ عوام کو بہترین کلمات سے دین کی جانب راغب کیا جائے کہا: خدا کی طرح احسن الاقوال سے دعوت دی جائے ، ائمہ طاھرین رحمت الھی کا دروازہ ہیں ، اس سفر میں آپ جہاں بھی ہیں تین باتوں کو لوگوں تک پہونچانے کی کوشش کریں ، عقائد، تہذیب و اخلاقیات کے اصول ، احکام الھی اور حلال و حرام و نماز و روزہ کے مسائل بیان کریں ۔

انہوں نے مزید کہا: ائمہ طاھرین نے جو کچھ بھی بیان کیا ہے اس سے لوگوں کو آگاہ کریں ، جہاں بھی ہیں وہاں کے لوگوں کو چهارده معصومیں علیھم السلام سے آشنا کرنے کی کوشش کریں کیوں کہ یہ عمل آپ کی بابرکت حیات کا ثمرہ ہوگا ، تبلیغی سفر کا نچوڑ عوام کے عقائد، احکام، تہذیب و اخلاقیات کی بہتری ہونا چاہئے ۔

حوزه علمیہ قم میں درس خارج فقہ و اصول کے برجستہ استاد نے گناہگاروں کے لئے توبہ کا زمینہ فراہم کیا جانا اور لوگوں کو امام زمانہ(عج) سے آشنا کرنا ضروری جانا اور کہا: گناہگاروں کو توبہ کرانے اور لوگوں کو امام زمانہ(عج) سے آشنا کرنے کی کوشش کریں ، افسوس کے زندگی ختم ہونے پر ہے مگر ہم اس زندگی سے بخوبی استفادہ نہیں کرسکے ۔

انہوں نے مزید کہا: سو سال نماز شب پڑھنے سے بہتر ہے کہ ہم اس ایک سفر میں کسی ایک گناہگار کو توبہ کراکر خدا کی سمت پلٹا دیں ، عوام کو امام عصر(عج) سے آشنا کرانا آپ کی سرگرمیوں کا حصہ رہنا چائے کہ اگر آپ نے ایسا کیا تو یقینا آپ کا نام اصحاب سیدالشهداء علیہ السلام میں شامل ہوگا ۔

اس مرجع تقلید نے یاد دہانی کی: لوگوں کو عاشوراء کی عظمت اور مقصد قیام سیدالشهداء علیہ السلام سے آشنا کریں کہ اگر آپ نے ایسا کیا تو یقینا آپ کا اجر قابل توصیف نہ ہوگا ، کیوں کہ ہم حضرت(ع) کو کما حقہ نہیں پہچان سکیں ہیں ، شب معراج جب مرسل آعظم (ص) قاب قوسین کی منزلوں تک پہونچے تو وہاں آپ نے دو جملے دیکھے ۔ ایک «ان الحسین مصباح الهدی» اور دوسرے « و سفینة النجاة» تھا ، ان دونوں جملے کی تشریح اور توضیح کے لئے دو کتاب کی ضرورت ہے کیوں کہ پہلے جملے میں ایک علمی گوشہ پنہاں ہے ، حضرت سید الشهدا امام حسین(ع) کا سر بریدہ چراغ ہدایت ہے ، اور دوسرے جملے میں ایک عملی گوشہ پوشیدہ ہے کہ حضرت (ع) محشر میں درماندہ افراد کے لئے کشتی نجات ہیں ، یہ دونوں جملے صحیح السند ہیں ۔

حضرت آیت الله وحید خراسانی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ روز قیامت تمام انبیاء سے سوال و جواب ہوگا اور سبھی کا حساب و کتاب ہوگا کہا: قران نے واضح طور سے یہ کہا ہے کہ تمام انبیاء مسئول ہیں اور معتبر روایتوں میں موجود ہے کہ قیامت کے روز لوگ پچاس هزار سال کی مدت کے بقدر کھڑے رہیں گے ، اس وقت نفسا نفسی کا عالم ہوگا ، باپ بیٹے کو نہیں پہچانے گا ، انبیاء اور اولیاء الھی حیران و پریشان ہوں گے کہ اس درمیان ایک عماری اترے گی جس کا ظاھر خدا کی بے انتہا رحمت اور باطن خداوند متعال کا عفو ہوگا ۔

انہوں نے مزید کہا: اس عماری سے بی بی دوعالم حضرت فاطمہ معصومہ (ع) اتریں گی ، تمام اہل محشر آپ کے احترام میں اٹھ کھڑے ہوں گے کہ ناگہاں خون میں غلطاں ایک کرتہ آپ اپنے سر پر ڈال لیں گی اور پھر جبرئیل نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ خدا نے آپ کو سلام پہونچایا ہے اور فرمایا ہے کہ جو کچھ مانگنا ہے مانگ لیجئے کہ رد نہیں ہوگا ، اس مقام پر حضرت (ع) فرمائیں گی «یا رب شیعتی» یعنی خون امام حسین(ع) میں ڈوبا ہوا کرتہ ختم محشر کا اعلان ہوگا ۔

حوزه علمیہ قم میں درس خارج فقہ و اصول کے برجستہ استاد نے قبر حضرت سیدالشهدا(ع) کی زیارت کے سلسلے میں موجود روایت کی جانب اشارہ کیا اور کہا: کوئی بھی ملک مقرب اور نبی مرسل نہیں ہے مگر یہ کہ اس کی ایک یہ تمنا ہے کہ خدا اسے قبر حضرت سیدالشهدا(ع) کی زیارت کا اذن دے دے  ۔

انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام کی زیارت قبر حضرت سیدالشهدا(ع) کی درخواست کی جانب اشارہ کیا اور کہا: ابوحمزه ثمالی کہ جو امام چہارم کے خاص صحابی ہیں فرماتے ہیں ہم حکومت آل مروان کے زمانہ میں حکومت کے کارندوں کے خوف سے شبوں میں قبر حضرت سیدالشهدا(ع) کی زیارت کو جایا کرتے تھے اور دن میں آرام کیا کرتے تھے ، ایک شب جب میں صحن حرم امام حسین علیہ السلام کے قریب ہوا تو کوئی میرے سامنے آیا اور نے کہا کہ آج حرم پر پہرا ہے ، کچھ دیر روک کر جب دوسری بار بڑھا تو پھر یہی جواب ملا ، تیسری بار جب گیا اور یہی جواب ملا تو اپنے مَن میں سوچا کہ لگتا ہے کہ آج آل مروان کے کارندوں کے چنگل میں پھنس گیا ہوں مگر پہرے دار نے جواب دیا کہ میں مجبور ہوں ، آج کی شب حرم ، کلیم الله موسی بن عمران سے مخصوص ہے ، حضرت موسی نے مدتوں پہلے خدا سے زیارت قبر حضرت سیدالشهدا(ع) کی آرزو کی تھی کہ جو آج کی شب پوری ہوئی ہے اس لئے آج وہ حرم میں موجود ہیں ۔

حضرت آیت الله وحید خراسانی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ کسی نے بھی حضرت امام حسین علیہ السلام کو نہیں پہچانا کہا: آج معاشرے میں کچھ ایسے بھی ملتے ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ عزاداریاں افراطی ہیں جبکہ انہیں معلوم نہیں کہ ہم جس قدر بھی عزاداری کریں گے وہ تفریط اور کمی کا مصداق ہے ، یہ عقل کے کچے ہیں اور انہیں حضرت سیدالشهدا(ع) کی مکمل شناخت نہیں ہے ۔

انہوں نے بیان کیا: خدا کے لطف و کرم سے محرم میں عزاداری کی توفیق حاصل کریئے اور حضرت سیدالشهدا(ع) کی عظمت سے لوگوں کو آشنا کریئے ، آپ کا اجر اس حدیث میں پنہاں ہے ، ہم پر پڑنے والی مصیبت پر رونے اور رولانے والے پر بہشت واجب ہے اور وہ ہمارے ساتھ بلند ترین مقام پر ہوگا ، یہ ہے آپ کے سفر تبلیغ کا ثمرہ ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۱۲۶۶

 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬