‫‫کیٹیگری‬ :
14 July 2018 - 14:02
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436592
فونت
رہبر انقلاب اسلامی کے عالمی امور کے مشیر علی اکبر ولایتی نے کل رات ایران کے ٹیلی ویژن چینل ایک کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے روس کے صدر ولادیمیر پوتین کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو اہم اور مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات میں علاقائی سطح پر تہران اور ماسکو کے باہمی روابط کے فروغ پر تاکید کی گئی۔
ڈاکٹر ولایتی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی کے عالمی امور کے مشیر علی اکبر ولایتی نے اس گفتگو میں روس اور مزاحمتی محاذ کے مابین دشمن کے پروپگنڈوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بہت  سے لوگوں کا کہنا تھا کہ روس شام میں ایران کی موجودگی کا مخالف ہے یا ایران کو شام سے نکل جانا چاہئیے جبکہ روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے شام کے حوالے سے ایران اور روس کے مابین دفاعی تعاون کو جاری رکھنے پر تاکید کی۔

رہبر انقلاب اسلامی کے عالمی امور کے مشیر نے کہا کہ بہت جلد روس اور ترکی کے صدور ایران کا دورہ کریں گے اور صدر مملکت حسن روحانی کے ساتھ شام کی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

علی اکبر ولایتی نےبحیرہ خزر کے بارے میں روس اور ایران کے باہمی تعاون کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور ماسکو امریکہ ،نیٹو اور اسی طرح دوسری طاقتوں کی بحیرہ خزر کےعلاقے میں موجودگی کا مخالف ہے۔

دوسری جانب علی اکبر ولایتی نے ہفتہ کے روز رائٹرکے ساتھ گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ ہم کبھی بھی امریکی حکام کے ساتھ مذکرات نہیں کریں گے اور اگر امریکی حکام اس وہم کا شکار ہیں کہ ہم ان سے مذاکرات چاہتے ہیں تو وہ جان لیں کہ یہ ان کی خام خیالی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عالمی جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی لہذا ہم اس ملک سے جو اپنے وعدوں اور قراردادوں پر قائم نہیں مذاکرات نہیں کریں گے۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬