13 August 2018 - 00:38
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436862
فونت
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ اسے بہت سی مصدقہ رپورٹیں موصول ہوئی ہیں کہ چین میں اویغور اقلیت کے تقریباً ۱۰ لاکھ افراد کو بہت بڑے خفیہ حراستی کیمپ نما مقام پر حراست میں رکھا گیا ہے۔
مسلمان چین

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی کی رکن جائے مکڈوجل نے اعلان کیا ہے کہ چین میں اویغور اور مسلم اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے 10لاکھ کے قریب افراد کو ملک کے مغرب میں واقع خود مختار علاقے شنکیانگ میں سیاسی نظریے کی جبری تلقین کے کیمپوں میں داخل ہونے پر مجبور کیا گیا ہے۔

خاتون رکن نے تاکید کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ ہمیں اس بارے میں موصول ہونے والی باوثوق رپورٹوں نے گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ چین نے اویغور کے خود مختار علاقے کو ایک بہت بڑے تربیتی کیمپ جیسی شکل دے دی ہے اور سب اپنے حق سے محروم ہیں ۔

حکومت چین کا اس سلسلہ میں کہنا ہے کہ شنکیانگ کے علاقے کو اسلامی شدت پسندوں اور علیحدگی پسندوں کا سامنا ہے جو حملوں اور مسلم اکثریتی اقلیت اویغور کے بیچ کشیدگی بھڑکانے کی سازش پر عمل پیرا ہیں۔

جنیوا میں اقوام متحدہ میں چین کے سفیر یوجیان ہووا کا کہنا تھا کہ ان کا ملک تمام نسلی جماعتوں کے درمیان مساوات اور یک جہتی کو یقینی بنانے پر کام کر رہا ہے۔/۹۸۹/ف۹۷۸/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬