29 March 2020 - 21:11
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442402
فونت
حجت الاسلام سید حسن ظفر نقوی :
معروف عالم دین نے کہا کہ ترقیاتی ممالک بھی بےاحتیاطی کے باعث اس وائرس کے شکنجے میں ہیں، اس لئے پاکستان کی عوام کو اپنی حفاظت کے لئے رضاکارانہ طور پر لاک ڈاؤن اور احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا،

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق معروف عالم دین حجت الاسلام سید حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس انسان دشمن وباء ہے، جس کے سدباب کیلئے حکومتی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں، اگر عوام چاہے تو وائرس کو گھروں میں محدود ہوکر شکت دے سکتے ہیں۔

ترقیاتی ممالک بھی بےاحتیاطی کے باعث اس وائرس کے شکنجے میں ہیں، اس لئے پاکستان کی عوام کو اپنی حفاظت کے لئے رضاکارانہ طور پر لاک ڈاؤن اور احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا، تمام پاکستانی بلاتفریق اس وباء کا مل کر مقابلہ کریں، کورونا وائرس اس وقت پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اور عالمی وباء اختیار کرگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح مختلف ممالک میں حکومت اور عوام اس وائرس سے مقابلہ کر رہی ہے، ہماری پاکستانی عوام کو بھی چاہیئے کہ ریاست اور حکومت پاکستان کی جانب سے کورونا وائرس سے عوام کو محفوظ رکھنے کے جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں اس میں عوام بھرپور تعاون کرے اور مذہبی و عوامی اجتماعات سے گریز کرے تاکہ انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت ایک جنگ کی حالت میں ہے، ہمیں اس جنگ سے فتح حاصل کرنے کے لئے قومی سوچ اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔

اس وقت ڈاکٹرز حضرات کی جانب سے تجویز کئے ہوئے اقدامات پر عمل پیرا ہونا عین شریعت کے مطابق ہے، ہم حکومت سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ غریب اور مزدور طبقہ جو روزمرہ محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ بھرتا ہے ان کے گھروں تک راشن پہنچانا اور ان کی مشکلات کو حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جس کو پورا کرنے کیلئے فی الفور اقدامات کئے جائیں۔

قابل ذکر ہے کہ پیام ولایت فاؤنڈیشن اسکاؤٹس کی جانب سے ملیر کے مختلف مقامات ملیر 15، محمدی ڈیرہ، جناح اسکوائر، ملیر ٹنکی، سعود آباد، جعفرطیار و دیگر مقامات پر کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے اسپرے کیا گیا، جس میں علماء کرام مختلف این جی اوز و دیگر اداروں نے حصہ لیا اور وہاں کی عوام میں ماسک اور ہینڈ سینی ٹائیزر تقسیم کئے گئے اور عوام کو ہینڈ بل کے ذریعے اس وائرس کے متعلق آگاہی فراہم کی۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬