03 April 2020 - 23:46
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442437
فونت
چین کے شہر ووہان میں شروع ہونے والے کورونا وائرس کو امریکی فوج نے پھیلایا، امریکا نے تربیت یافتہ فوجی دستہ کو عالمی فوجی کھیلوں میں شرکت کیلئے شھر ووہان پہونچایا جنہوں نے خفیہ طور پر ایک بازار میں جاکر اس وائرس کو کھانے والی چیزوں میں وارد کیا۔

چین کے ووہان شہر میں شروع ہونے والے کورونا وائرس کو امریکی فوج نے پھیلایا جو وہاں پر عالمی فوجی کھیلوں میں شرکت کیلئے گئی ہوئی تھی جس میں امریکہ نے کھلاڑیوں کے بھیس میں ایک تربیت یافتہ فوجی دستہ بھیجا تھا جنہوں نے خفیہ طور پر وہاں کے ایک بازار میں جا کر اس وائرس کو کھانے والی چیزوں میں وارد کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ امریکا کے فوجی کھلاڑی نہیں تھے بلکہ اسی خاص مشن کے لیے انہیں تربیت یافتہ بنا کے بھیجا گیا تھا۔ اس دوران امریکا کے ان جعلی فوجی کھلاڑیوں نے ایک تمغہ بھی حاصل نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ کھلاڑی نہیں بلکہ جاسوس تھے جو اپنے اصل مقصد تک رسائی چاہتے تھے اور اس طرح بہت ہی تیزی سے اس وبا نے پھیلنا شروع کیا۔

اس بات کا سنسنی خیز انکشاف حال ہی میں برطانیہ کے ایک معروف اخبار Independent نے ایک مضمون کے ذریعے کیا ۔ اخبار کے مطابق چین کے اقتصادی ڈھانچے کو عالمی سطح پر خراب کرنے کیلئے امریکا نے ایک بہت بڑے Biological war کا آغاز کیا ہے ۔ جرمنی کے ایک جریدے نے بھی اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ یہ جراثیم برطانیہ کی فیکٹری میں بنایا گیا ہے جسے سب سے پہلے زندانیوں پر آزمایا گیا تھا ،جس پر امریکا کے ایک دولت مند ترین شخص نے سرمایہ کاری کی تھی ۔ یہ وائرس ایک خاص طریقے کے DNA کے ذریعے سے تیار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ امریکا کا بنایا ہوا کارٹون The simpsons جو آج سے سترہ سال پہلے بنایا گیا ہے جس میں اگر دقت سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ کارٹون آج کے اس کرونا وائرس سے متعلق بنایا گیا ہے, کہ جس میں پروڈکٹس کو دوسرے ملکوں میں صادرات کر کے ایک مہلک بیماری کو پوری دنیا میں منتقل کیا جاتا ہے۔ مذکورہ کارٹون کو آپ نیٹ سے سرچ کر کے دیکھ سکتے ہیں، ادھر ٹرمپ نے صدر بننے کے ساتھ ہی اعلان کیا تھا کہ انہیں اب اقتصادی جنگ چین سے کھیلنی ہوگی۔


چین تجارت میں دنیا میں برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک ہے جس کا مشرق وسطی میں کرونا وائرس کی وجہ سے اب برآمدات رکی ہوئی ہیں اور تیس فی صد چین کی تجارت کا گراف نیچے کی طرف جا رہا ہے جو اس ملک کے لئے بہت بڑا نقصان تصور کیا جا رہا ہے، اگرچہ حال ہی میں چین نے وائرس کو کنٹرول کر کے عالمی تجارت میں واپسی کی ہیں، چین کی وزرات خارجہ نے یہ اعلان بھی کیا ہے اور امریکا کو دھمکی بھی دی ہے کہ ان کے اس Bilogical war کا جواب دیا جائے گا۔ اور کہا کہ انہیں باضابطہ طور پر اس کے ثبوت بھی ملے ہیں، امریکا چاہتا ہے کہ چین کے مقابلے میں اس وقت ہندوستان کو کھڑا کیا جائے تاکہ ان سے با آسانی اپنی منفعت لیتا رہے کیونکہ ھندوستان کی موجودہ حکومت نظریاتی طور پر امریکا اور اسرائیل کے بہت نزدیک ہیں لیکن حالیہ قرائن سے پتا چلتا ہے کہ چین کی قدرت کے آگے ہندوستان نہیں ٹک سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے امریکی رجیم، دہشت گرد تنظیم داعش کو بھی اسی لئے وجود میں لائی تھی تاکہ تیل سے مالا مال مشرق وسطی کو رام کرکے ان سے اپنی معیشت کو مضبوط بنا سکے، لیکن ایران کی طاقتور فوج کی حکمت عملی نے خطے میں داعش کی درندہ صفت حکومت جو پوری انسانیت کی سلامتی کے لئے خطرہ تھی کو پوری طرح سے خاتمہ کیا جس کا عندیہ خود شھید سلیمانی نے دیا تھا ۔
امریکا نے Bilogical war کا آغاز دوسری عالمگیر جنگ سے ہی شروع کیا تھا۔ اس کے بعد اس انسانیت مخالف کام کو انجام دینے کے لئے کئی اپنے حریفوں کو جو ان کے لئے آنکھ کا کانٹا تھے جسمیں کیوبا کے معروف آزادی پسند انسان ’فیڑل کاسترو‘ ، وینزویلا کے صدر ’یوگا شاویز‘ قابل ذکر ہیں ۔

ان کو اسی war سے نشانہ بنایا ۔ دوسری جانب امریکا نے سارس ، ایڈس ، برڈ فلیو ،لندن فلو وغیرہ وائرس کو وجود میں لاکر وقتا فوقتا اپنے اقتصادی مقاصد حاصل کئے ۔ اگرچہ ان وائرسوں سے شرح اموات کرونا کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی لیکن امریکا کو ان وائرس سے اتنے فائدے حاصل نہیں ہوئے جتنے اب اس جدید ترین وائرس '' کرونا '' سے حاصل ہو رہے ہیں۔

کرونا اصل میں اتنا بڑا وائرس نہیں ہے جسے انسان کو ڈرنے کی ضرورت ہے، مگر ایک سوچے سمجھے پلان کے مطابق امریکا نے اپنے استعماری میڈیا کو بھرپور پیسہ دیکر اسے دنیا میں وحشی اور ڈراونا ترین وائرس کے طور پر پیش کیا ۔ اگرچہ اس کی اموات کی شرح برڈ فلیو سے تقریبا مساوی ہے ۔ کرونا وائرس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ 80 سال سے اوپر عمر والے افراد کو22در صد 70 اور 80 کے درمیان 8 ، 60 سے 70 والے 3.6 اور50 سے نیچے عمر رکھنے والے افراد کی شرح اموات1 فیصد جبکہ 10 سال کے نیچے والے کمسنوں کی اموات تحقیق کے مطابق صفر درصد بتائی جاتی ہیں ۔


امریکا نے کرونا وائرس سے اپنے دیرینہ اہداف حاصل کرنے کے حوالے سے ایک بڑی سازش کا آغاز کیا ہے ۔ جس میں خاص طور پر چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی ترقی کو روک لگانی ہے ۔ اگرچہ وہ ابھی تک اس میںکامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ چین نے فوری طور پر اور بڑی سرعت سے اس وبا پر مکمل طور پر کنٹرول کر لیا ہے ۔ اور ووہان شھر سے اسے آگے پھیلنے سے روک دیا ہے ۔ دوسری جانب چین کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران جو امریکا کا سب سے بڑا حریف ہے کو اس وبا سے شکار کرنا چاہا ۔ امریکا نے ایران میں انقلابی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے کرونا پارلمینٹ تک پہنچایا اور یہاں تک کہ چند بڑی انقلابی شخصیات کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوا۔

بتایا جاتا ہے کہ ایران میں اس وباء کو دسمبر میں ہی وارد کیا گیا تھا اور spray کے ذریعے اس مہلک وبا کو عمومی مقامات میں پھیلایا گیا تھا۔ جسکا ایران کو بعد میں پتا چلا اس دوران پچاس سے زیادہ اموات ایران میں ہو چکی تھیں لیکن اس وقت اسے برڈ فلیو کا نام دیا گیا اگرچہ وہ کرونا وائرس سے ہی واقع ہوئی تھیں۔ جس کے بعد 3 جنوری کو انہوں نے ایران کے طاقتور جنرل قاسم سلیمانی کو بھی شھید کیا تاکہ بیک وقت یہ اس ملک کو ایک بڑے بحران کا شکار بنا سکیں۔


دوسری جانب ایران کے غم و غصے کو روکنے کے لئے کرونا نے بڑا کام کیا کہ ایران نے امریکی فوج کو خطے میں نکال باہر کرنے کی ٹھان لی تھی، تحقیقات سے پتا چلتا ہے امریکا نے پوری دنیا کے اقتصاد کو خراب کرنا ہے اور خود کو دنیا میں سپر پاور کے طور پر باقی رکھنا ہے ، کیونکہ اس وقت امریکا کی اقتصادی ناو ڈوبنے پر ہے جو وہ کرونا وائرس سے بچانا ہی نہیں بلکہ اسے مضبوط بھی بنانا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بیماری سے 70 سال سے اوپر کے افراد کو بھی صفحہ ہستی سے ہٹانا مقصود ہے کیونکہ امریکا اب سبکدوش (ریٹائرڈ) لوگوں کو سوشل سروسز اور میڈیکل سہولیات وغیرہ دینے سے عاجز آچکا ہے۔

امریکا کی سیاست میں اکثر یہودی افراد شامل ہیں اور اس منصوبہ بندی کے پیچھے دنیا کے سب سے بڑے دولت مند اور پاورفل لوگ موجود ہیں جو دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کے مالک ہے یہاں تک کہ Uno اور World Bank, unicefوغیرہ جیسے اداروں اور عالمی تنظیموں کے افراد بھی اس پروپیگنڈے میں شامل ہیں۔ اسی لئے ان کے لئے خود امریکیوں کا مرنا بھی کوئی معنی نہیں رکھتا ہے ۔ 9/11 کے حادثے کی زندہ مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس حادثے میں پانچ ھزار سے زائد امریکی مارے گئے تھے۔

اسلئے اس امریکی صہیونیوں سے بعید نہیں ہے کہ انہوں نے یہ منحوس وائرس ایجاد کیا ہو جو عمر رسیدہ افراد کو ہی زیادہ تر نشانہ بنائے جس وجہ سے انہیں ایران کی بزرگ افراد جسمیں مراجع کرام شامل ہیں کو ٹارگٹ کرنے کا منصوبہ ہو۔ اور یوں امریکا کے سب سے بڑے دشمن ولی امر مسلمین امام خامنہ ای کو مین ٹارگیٹ میں رکھا گیا ہو۔ اس دوران ابھی تک یہ لوگ ایران میں چند بڑی شخصیات کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اگرچہ ان کے استکباری میڈیا نے اعلان کر ہی دیا ہے کہ امام خامنہ ای بھی اس وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ یہاں تک کہ رہبرمعظم کے مشاور علی اکبر ولایتی تک یہ کرونا وائرس پہنچایا گیا ہے۔ اور وہ اس وائرس سے متاثر ہوئے۔


اس طرح یہ لوگ ایران میں بڑی اور انقلابی شخصیات کو نشانہ بنانے پہ تلے ہیں جسمیں سپاہ پاسداران اسلامی بھی شامل ہیں چنانچہ ایران کی اکثر انقلابی شخصیات عمر رسیدہ ہیں لیکن عالمی استکبار کی یہ پھونکیں نور الہی کو بجا نہیں سکتیں اور یہ لوگ اپنے مکر میں زیادہ کامیاب نہیں ہونے والے ہیں۔ و مکروا ومکراللہ و اللہ خیر الماکرین۔ رسول اللہ ۖ فرماتے ہیں کہ یہ '' دنیا محضر خدا ہے '' اس میں جو بھی گناہ کرتا ہے وہ اس کیلئے بھاری پڑ جاتا ہے اور مخلوق خدا اور عیال خدا کے ساتھ جو بھی چھیڑتا ہے خدا اس کے ساتھ چھیڑتا ہے ان کے اس مکر سے اب امریکی خود اس مرض کی لپیٹ میں آچکے ہیں بہر حال قدرت کا نظام ہی اسی طرح بنا ہے کہ جو کسی پر ظلم کرے وہ خود بھی ظلم کا شکار ہوتا ہے۔ جو کسی کے لیے گڑھا کھودتا ہے وہ خود اس میں گرتا ہے۔


امریکا کے وزیر خارجہ پمپو نے ایران کو چند بار مدد کی پیشکش کی اس کے جواب میں ایران کے سپریم لیڈر نے اپنے خطاب میں انہیں جواب دیا کہ ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت نہیں ہے آپ اپنے لوگوں کیلئے جو میڈیکل کی عدم سہولیات سے پریشان ہیں ان کی مدد کریں ۔ ایران کا انقلاب واقعا پوری دنیا اورخصوصا یہاں کے لوگوں کیلئے بڑی نعمت ہے ایران نے اس وائرس سے جہادی طور پر جنگ کی ہے ۔ یہاں کی رضا کارانہ فوج جو یہاں پر بسیج کے نام سے جانے جاتے ہیں نے بے حد شجاعانہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے رضاکارانہ طور پر یہاں کے ہسپتالوں میں کام کیا ہے، لوگوں کے گھر جا جا کر انہیں مفت میں جراثیم کش ادویات اور ماسک بانٹے ہیں۔


امریکا اور برطانیہ اس shadow politics پالیسی کے ذریعے اپنے دیرینہ مفادات کو پانے کیلئے بہت سی حدیں پار کرنا چاہتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کرونا وائرس، برڈ فلیو سے زیادہ خطرناک ہے بلکہ اس کی شرح اموات میں زیادہ فرق نہیں ہے تو کیونکر اس کی دوا جلد تیار کی گئی اور کرونا کی دوا تیار کرنے میں یہ لوگ تساہلی سے کام لے رہے ہیں ۔


BBC کی رپورٹ کے مطابق کرونا کی دوائی اٹھارہ مہینے تک آمادہ ہو جائے گی ۔ اگرچہ یہ دوائی پہلے ہی بنائی جا چکی ہے ادھر دوسری جانب ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ مذکورہ وائرس جلد ہی معجزاتی طور پر ختم ہو جائے گا۔ اگرچہ یہ بات مسلم نہیں ہے کیا پتا کہ یہ ایک اور سازش ہو دنیا کو تحقیق سے روکنے کیلئے کہ جس طرح چین نے مکمل طور پر اس وبا کو کنٹرول کیا ہوا ہے اسی طرح دوسرے ممالک بھی اس وائرس کو روکنے میں کامیاب ہوگئے تو امریکی مفادات حاصل نہیں ہوں گے۔


بہرکیف خداوند تعالی امریکا کی اس عالمی دہشت گرد رجیم کو کیفر کردار تک پہنچائے اور پوری انسانیت کو خدا اپنی رحمت کی آغوش میں رکھ کر اس منحوس وائرس کو دنیا سے جلد نابود کرے اور پوری دنیا میں امن و سلامتی قائم کرے ۔ آمین

ادارہ کا مولف کی تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں
پسندیده خبریں